کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بھتیجے (۔۔۔۔ ) نے کہا کہ میری شادی نہیں کراؤ، پھر اس کی غیر موجودگی میں اس کے والد (۔۔۔) نے اس کا نکاح کرایا ،اور ایجاب و قبول بھی کیا، نکاح کے بعد تقریباً آٹھ سال تک وہ ازدواجی حقوق ادا نہیں کر سکا، اس کے بعد لڑکی کے والد نے اس سے طلاق کا مطالبہ کیا، لڑکے نے کہا کہ مجھے ایک مہینے کا وقت دیا جائے ، جب کہ جرگہ نے دو مہینے کا وقت دیا، اس کے باوجود وہ بیوی کے حقوق ادا نہیں کر سکا، پھر لڑکی کے والد نے لڑکے کو جرگہ کے سامنے بلایا ،اور اس سے طلاق کا مطالبہ کیا ، طلاق کے مطالبے پر لڑکے نے سر ہلایا ،اور زبان سے اقرار کیا کہ (طلاق ہے) جر گہ والوں نے اس کو کہا کہ ایسا بولو کہ عورت مجھ پر طلاق ہے، تو لڑکے نے یہی جملہ کہا، اور طلاق نامے پر دستخط کر دیا ، اب ڈھائی سال کے بعد لڑکے کی والدہ کہہ رہی ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی ہے، لہذا مہر ہمیں واپس کر دیا جائے ، جبکہ ۱۸ جنوری کو لڑکی کی شادی کسی اور جگہ ہونے والی ہے ، مذکورہ صورت میں مہر لڑکی کا حق بنتا ہے یا نہیں ؟
نوٹ: طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے لیے لڑکے پر کوئی جبر نہیں کیا گیا تھا، لیکن دستخط کرنے کے بعد لڑکے کے ایک چچانے غصہ اور شرمندگی کے باعث لڑکے کو ایک ڈنڈا مارا تھا۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے، لہذا سوال میں مذکور بیان درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ،نیز سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ بھی مطابق اصل ہو ، اور مسمی اکرام اللہ نے ایک مرتبہ جرگہ کے سامنے طلاق کے الفاظ ادا کئے ہوں ،اور اس کے بعد منسلکہ طلاق نامہ پر بلا جبر اپنی مرضی سے دستخط کئے ہوں، تو اس سے اس کی بیوی پرمجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
جبکہ شوہر نے اگر مہر ادا نہ کیا ہو تو اب طلاق کی صورت میں لڑکی کو کل مہر ادا کرنے کا پابند ہو گا۔
كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة اھ (3/ 187)۔
و في الدر المختار : (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) اھ (3/ 102)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه اھ (3/ 102) ۔والله أعلم بالصواب