کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنے بیٹے اصغر علی کا نکاح مسماۃ روبینہ سے آج سے تقریباً سولہ (16) مہینے پہلے کر دیا تھا، ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ میرے بیٹے نے اپنی منکوحہ کی تصویر دیکھی تھی کہ میرا بیٹا (مرحوم اصغر علی ) کا کسی حادثے میں انتقال ہو گیا، ان کے انتقال کے بعد ہم نے مسماۃ روبینہ کا نکاح اپنے دوسرے بیٹے سے کرنے کا فیصلہ کیا، جب ہم نے یہ بات کی تو لڑکی والے اس بات پر رضامند نہیں ہوئے ،اور ہم سے مہر کا مطالبہ کرنے لگے، میرے بیٹے (مرحوم اصغر علی) کے پاس کوئی جائیداد نہیں تھی، اور میں خود کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہوں کہ میں ان کی طرف سے مہر ادا کر سکوں، اور نہ ہی میں اتنی طاقت رکھتا ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ آیا مجھ پر یا ہم میں سے کسی کے ذمہ لازم ہے یا نہیں کہ اپنے بیٹے کا مہر ادا کریں ؟
صورت مسئولہ میں سائل کے مرحوم بیٹےکا اگر مسماۃ روبینہ سے باضابطہ نکاح ہو گیا ہوتو اگر چہ سائل کے بیٹے نے اپنی منکوحہ کو نہ دیکھا ہو،تب بھی اس کے انتقال کے ساتھ ہی اس کی منکوحہ کا مہر اس کے ذمہ شرعاً واجب الاداء ٹھہرا ہے، جو اس کی وفات کے بعد اس کی ترکہ میں سے ادا کیا جائے گا، اور اگر اس کا ترکہ مہر کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو تو اگر سائل نے مہر کی ذمہ داری اٹھائی ہو توسائل کے ذمہ اس کی ادائیگی لازم ہوگی ، الا یہ کہ لڑکی خیر خواہی اور حسن معاملہ کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنا حق مہر معاف کر دے تو یہ اس کے لیے باعث اجر ہوگا، اور اس کو ایسا کرنا چاہیے۔
كما في الدر المختار: ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) اھ (3/ 102)۔
وفيه ايضاً : (وصح ضمان الولي مهرها ولو) المرأة (صغيرة) ولو عاقدا لأنه سفير، ( في قوله ) (وتطلب أيا شاءت) من زوجها البالغ، أو الولي الضامن اھ (3/ 140)
وفيه ايضاً : (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة اھ (6/ 760) والله اعلم بالصواب