کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کا چندہ جو ہفتہ وار یا ماہانہ مسجد کی کسی خاص ضروت ( مثلاً واش روم بنانا یا صفیں خریدنے وغیرہ ) کے بغیر مطلقاً کیا جاتا ہے اس چندہ سے امام مسجد کو وظیفہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ جبکہ اسی چندہ سے مسجد کے خادم کو بطور خادمی وظیفہ دیا جاتا ہے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
واضح ہوکہ مسجد کا وہ چندہ جو مسجد کی کسی خاص ضرورت کے لئے نہ دیا گیا ہو بلکہ عمو می ہو تو ایسے چندے کو مسجد کی کسی بھی ضرورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے ،اور چونکہ مسجد کے امام و خادم کی تنخواہیں بھی ضروریات مسجد میں شا مل ہیں، اس لئے مسجد کے چندے سے امام و خادم کو تنخواہ (وظیفہ ) دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے ،بلکہ مسجد کی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ مسجد کے چندے کو غیر ضروری تزیین و آرائش پر خرچ کرنے کے بجائے امام مسجد کے وظیفہ میں مناسب و معقول اضافہ کریں،تاکہ اس کے روز مرہ کی ضروریات پوری ہوں اور وہ اپنی معاشی فکروں سے آزاد ہو کر مکمل توجہ اور اخلاص کے ساتھ اپنے دینی فرائض سرانجام دے سکے۔
کما فی الدرالمختار:(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم (367/4)
وفیہ ایضاً :وتقطع الجهات للعمارة إن لم يخف ضرر بين فتح، فإن خيف كإمام وخطيب وفراش قدموافيعطى المشروط لهم (369/4)
وفی الشامیۃ :(قوله: اتحد الواقف والجهة) بأن وقف وقفين على المسجد أحدهما على العمارة والآخر إلى إمامه أو مؤذنه والإمام والمؤذن لا يستقر لقلة المرسوم للحاكم الدين أن يصرف من فاضل وقف المصالح، والعمارة إلى الإمام والمؤذن باستصواب أهل الصلاح من أهل المحلة (360/4)
وفیہ ایضاً :(قوله: وتقطع الجهات) أي تمنع من الصرف إليها، وعبارة الفتح وتقطع الجهات الموقوف عليها للعمارة إن لم يخف ضرر بين فإن خيف قدم اهـ أي إن من يخاف بقطعه ضرر بين كإمام ونحوه يقدم أي على بقية المستحقين ممن ليس في قطعهم ضرر بين لا على العمارة فافهم، إلا أن يكون المراد العمارة الغير الضرورية، فإن الإمام يقدم عليها اھ (368/4)
وفی فتاوی الھندیۃ:وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف كذا في الذخيرة ولو شرط الواقف في الوقف الصرف إلى إمام المسجد وبين قدره يصرف إليه إن كان فقيرا وإن كان غنيا لا يحل (463/2)