اسلام علیکم ورحمتہ
میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے محلے کی مسجد کے بینک اکاؤنٹ میں دس لاکھ سے زائد رقم انٹریسٹ کی ہے اب اس رقم کو خرچ کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے اور یہ رقم کن کن کاموں میں خرچ کر سکتے ہے کیا یہ رقم مسجد کے اثاثوں میں خرچ کر سکتے ہے براہ مہربانی تفصیل کے ساتھ جواب فرمایے۔
(نوٹ)سائل کو پوچھ نے پر پتہ چلا کہ یہ سودی بینک ہے۔
واضح ہوکہ مسجد اللہ رب العزت کا گھر ہے،اس لئے مسا جد میں بالکل پاکیزہ وحلال مال استعمال کر نا ضروری ہے،حرام اور مشتبہ مال مسجد یا مسجد سے متعلق اثاثوں میں استعمال کرنا جائز نہیں ،لہذا صورت مسؤلہ میں بینک سے ’’انٹرسٹ‘‘ کے نام سےملنے والے سود کی رقم قطعا مالِ حرام ہے،اسلئے اس کو مسجد کے اثاثوں میں استعمال کرنا شرعا جائز نہیں ،جبکہ بینک کےسیونگ اکاؤنٹ میں پیسہ رکھوانا سودی معاملات میں شامل ہونے کی وجہ سے شرعا ناجائز اور حرام ہے،لہذا مذکور مسجد کی انتظامیہ پر لازم ہے کہ فی الفور مسجد کے نام سودی اکاؤنٹ ختم کرواکر یہ رقم بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کے بجائے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھوا دیں،تاکہ سودی معاملات میں حصہ داری سے بچا جاسکے،اور اب تک سود کے مد میں جتنی رقم حاصل ہوئی ہے،اسےبغیر نیت ثواب کسی ضرورت مند اور مستحق پر خرچ کردیں۔
کمافی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:إن سبيل التوبة مما بيده في الاموال الحرام إن كانت من ربا، فليردها علي من اربي عليه، ويطلبه إن لم يكن حاضرا فإن أيس من وجوده فليتصدق بذالك عنه."(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:275، ج:3، ص:348،ط:دار احیاء التراث العربی بیروت)
وفي ردالمختار: (قوله لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله (باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیھا،ج:1،ص:658،ط:سعید)
و فيہ ایضا:ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه (باب الحظر والاباحۃ،ج:6،ص:385،ط:سعید)
وفی الھندیہ:ان کان المال بمقابلة المعصية فكان الأخذ معصية والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله."(کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس عشر فی کسب الحرام، ص:349،ط:ماجدیۃ)۔