السلام علیکم
میں بیرون ملک مقیم ہوں ،میری والدہ کا انتقال ۲۰۱۴ میرے نانا کی زندگی میں ہوگیا تھا، اس کے ایک سال کے بعد ۲۰۱۵ میں میرے نانا نے ایک وصیت تیار کی، جس میں اپنی جائیداد میں میری مرحوم والدہ کا حصہ انکے بچو ں کے نام کردیا ۔ اب نانا کی وفات کو تقریباً ۴ سال کا عرصہ بیت گیا ہے اور اب میرے مامو ں و خالہ اس وصیت کو ماننے سے انکاری ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میری والدہ کی زندگی میں نانا یہ وصیت بناتے تو ما نی جاتی،اب اس وصیت کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ۔میں نے ذاتی طور پر وکیل سے رابطہ کر کے معلوم کیا تو علم ہوا کے وصیت کی قانونی حیثیت ہے۔ براہِ مہربانی اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے نانا نے ان کی مرحومہ والدہ کے لئے مختص حصہ سائلہ اور اس کے دیگر بھائیوں کے صرف کاغذات میں نام کیا ہو، باقاعدہ اس جائیداد پر مالکانہ حقوق و قبضہ نہ دیا ہوتو اس صورت میں مذکور جائیداد بدستور سائلہ کے نانا مرحوم کی ملکیت شمار ہوگی اور ان کے انتقال کے بعد اب ان کے دیگر ترکہ میں شامل ہوکر ان کے موجود ورثاء میں حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگی، چونکہ سائلہ کی والدہ کا انتقال والد مرحوم یعنی نانا کی زندگی میں ہی ہوگیا تھااس لئے سائل اور اس کے دیگر بہن بھائی اپنی والدہ کے واسطے سے نانا کی جائیداد میں بطورِ وارث شریک نہ ہونگے، البتہ اگر سائلہ کے نانا مرحوم نے مذکور جائیداد باقاعدہ اپنے نواسے اور نواسیوں کے نام نہ لگوائی ہو ،بلکہ اپنے انتقال کےبعد ان کو مذکورجائیداد میں سے دینے کی وصیت کی ہو،جس کا کوئی ثبوت موجود ہوتو ایسی صورت میں مذکور وصیت شرعاًمعتبر مانی جائے گی ، اور سائلہ کے نانا مرحوم کے ترکہ کی ایک تہائی کی حد تک نافذ بھی کی جائیگی، لہذا سائلہ کے ماموں و خالہ کا اس وصیت نامہ کو سائلہ کی والدہ مرحومہ کی زندگی میں نہ لکھے جانے کو بنیاد بناکر اس کا انکار کرنا درست نہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ بمطابقِ وصیت سائلہ اور اس کے دیگر بہن بھائیوں میں مرحوم کی مذکور وصیت ان کے کل ترکہ کی ایک تہائی کی حد تک نافذ کریں، بصورتِ دیگر سائلہ اور اس کے دیگر بہن بھائی اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کرنے کے بھی مجاز ہیں۔
کما فی الدر المختار: (و) كون (الموصى له حيا وقتها) تحقيقا أو تقديرا ليشمل الحمل إلخ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ (قوله وقتها) أقول في التتارخانية: الموصى له إذا كان معينا من أهل الاستحقاق يعتبر صحة الإيجاب يوم أوصى ومتى كان غير معين يعتبر صحة الإيجاب يوم موت الموصي، فلو أوصى بالثلث لبني فلان، لم يسمهم ولم يشر إليهم فهي للموجودين عند موت الموصي، وإن سماهم أو أشار إليهم فالوصية لهم، حتى لو ماتوا بطلت الولاية لأن الموصى له معين فتعتبر صحة الإيجاب يوم الوصية اهـ ملخصا (قوله ليشمل الحمل) أي قبل أن تنفخ فيه الروح إذ بعد النفخ يكون حيا حقيقة اهـ ( کتاب الوصایا، ج 6، ص 649، ط دار الفکر )-
و فی درر الأحکام شرح غرر الأحکام : (و) كون (الموصى له حيا وقتها) إذ لو كان ميتا لبطلت الوصية اھ ( کتاب الوصایا، الباب الأول فی بیان الوصیۃ، ج 2، ص 427، ط دار احیاء الکتب العربی)-
و فی البحر الرائق: لما كان أقصى ما يدور عليه مسائل الوصايا عند عدم إجازة الورثة ثلث المال ذكر تلك المسائل التي تتعلق بها في هذا الباب بعد ذكر مقدمات هذا الكتاب كذا في النهاية والغاية قال رحمه الله (أوصى لهذا بثلث ماله، ولآخر بثلث ماله، ولم تجز الورثة فثلثه لهما) اھ ( باب الوصية بثلث المال،ج 8، ص 466، ط دار الکتاب الاسلامی )-