ایک ناول پر کسی کےلئے اسکرین پلے لکھنا کیسا ہے، اس کی کمائی حلال ہوگی یا حرام؟
واضح ہو کہ کوئی ایسا ناول جس میں بنیادی طور پر مباح مواد ہو، ناجائز مواد، مثلاً عریانی، فحاشی، بے حیائی، منکرات کی ترویج، یا اسلام اور دینی شعائر کی توہین شامل نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی حرام مقصد کے حصول کا ذریعہ بنے، تو اس پر اسکرین پلے یا ڈرامائی اسکرپٹ تیار کرنا فی نفسہ جائز ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر اسکرین پلے لکھنے والا شخص جس ناول پر اسکرین پلے لکھ رہا ہو اگر اس کا مواد شرعاً مباح ہو، منکرات کے اظہار یا پھیلاؤ کا ذریعہ نہ بنے، کام صرف فنی لکھاری کے دائرہ میں محدود ہو یعنی وہ کسی پروڈکشن ہاؤس کا باقاعدہ حصہ نہ بنے تو اس صورت میں اسکرین پلے سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہوگی، تاہم اگر اس اسکرین پلے کے ذریعہ واضح فحاشی، ، بے حیائی، گناہ یا دین کی توہین و ترویج ہوتی ہو، تو یہ عمل ناجائز اور اس کی کمائی حرام ہوگی۔ البتہ عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ اسکرین پلے اور ڈرامہ اسکرپٹ ایسے منکرات سے خالی نہیں ہوتا اور عملی دنیا میں ان سے مکمل اجتناب اکثر ممکن نہیں رہتا، نیز پروڈکشن کی سطح پر بعد میں شامل ہونے والے مناظر بھی لکھاری کو غیرارادی طور پر ایسے کام کا حصہ بنادیتے ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں اس پیشے کو ذریعہ معاش بنانے کے بجائے کسی دیگر غیر مشتبہ، حلال اور طیب ذریعۂ معاش کو اختیار کرنا بہتر ہے۔
کما فی القرآن المجید: (إن الذین یحبون أن تشیع الفاحشة فی الذین آمنوا لھم عذاب ألیم فی الدنیا والآخرة واللہ یعلم وأنتم لا تعلمون)الآیۃ۔ (سورۃ نور، آیت نمبر:۱۹)۔
و فیہ أیضاً: (ومن الناس من یشتري لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم)الآیة۔(سورۃ لقمان، آیت نمبر:6)۔
و فی أحکام القرآن للتھانوی: وفذلک الکلام أن اللھو علی أنواع؛ لھو مجرد، ولھو فیہ نفع وفائدة ولکن ورد الشرع بالنھي عنہ، ولھو فیہ فائدة ولم یرد فی الشرع نھي صریح عنہ ولکنہ ثبت بالتجربة أنہ یکون ضررہ أعظم من نفعہ ملتحق بالمنھي عنہ، ولھو فیہ فائدة ولم یرد الشرع بتحریمہ ولم یغلب علی نفعہ ضررہ ولکن یشتغل فیہ بقصد التلھي،ولھو فیہ فائدة مقصودة ولم یرد الشرع بتحریمہ ولیس فیہ مفسدة دینیة واشتغل بہ علی غرض صحیح لتحصیل الفائدة المطوبة لا بقصد التلھي، فھذہ خمسة أنواع، لا جائز فیھا إلا الأخیر الخامس فھو أیضاً لیس من إباحة اللھو في شییٴ؛بل إباحة ما کان لھواً صورة ثم خرج عن اللھویة بقصد صالح وغرض صحیح فلم یبق لھوا إلخ۔ (سورۃ لقمان، اختلاف الفقھاء فی بعض الملاھی، ج 3، ص 201، ط:ادارۃ القرآن)۔
وفی المسند:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (ھو کلام فحسنہ حسن و قبیحہ قبیح)۔ إلخ۔ (ج 8، ص 200، رقم:4760، دار المأمون للتراث:دمشق)۔