السلام علیکم میرا آپ سے سوال ہے کہ میں جوائنٹ فیملی میں رہتی ہوں یہاں کا کھانا پینا ہمارے گھر سے بہت مختلف ہے میں کوشش کرتی ہوں کہ اللہ پاک کا شکر ادا کر کہ کھا لوں لیکن مجھ سے نہیں کھایا جاتا ابھی میں حمل سے بھی ہوں اور میری 1 سال کی بیٹی بھی ہے جو میرا دودھ پیتی ہے کھانا نہ سمجھ میں آنے کی وجہ سے میں تھوڑا کھا کہ اُٹھ جاتی ہوں جس کی وجہ سے مجھے بہت کمزوری ہوگئی ہے شوہر کہتے ہیں کہ ہم سب کے ساتھ رہتے ہیں تو سب کی مرضی کا بنے گا تم برداشت کرو مہربانی کر کہ میری رہنمائی کریں
واضح ہو كہ بيوى اگر شريعت كى نظر ميں نافرمان نہ ہو تو شوہر كے ذمہ اس كے وسعت کے مطابق اس كى بيوى كا نان ونفقہ يعنى كھانا ، پينا ، لباس اور رہائش فراہم كرنا واجب ہے، لہذا سائلہ اگر شوہر كى مجبورى اور مالى وسعت وغيره كى وجہ سے جوائنٹ فيملى ميں رہائش پذير ہو ليكن اسے حمل كى حالت ميں گھر ميں پكايا جانے والا كھانا طبيعت كے موافق معلوم نہ ہو رہا ہو، جس كى وجہ سے اس كى صحت خراب ہونے كا انديشہ ہو، تو شوہر كو بھى چاہئے كہ كبھى كبھار اس كى طبيعت كے مطابق الگ سے كھانے پينے كا انتظام كر ليا كرے ، تاكہ ان كى صحت برقرار رہنے كے ساتھ ساتھ شادى شده زندگى ميں بھى پريشانياں پيدا نہ ہوں، اسى طرح سائلہ كو بھى چاہئے كہ جب رخصت ہو كر شوہر كے گھر آ چكى ہے، تو اب شوہر كے ہاں كھانے پينے والى أشياء كے ساتھ اپنے آپ كو عادى بنانے كى كوشش كر ليا كرے، تاكہ ان كى طبيعت كى وجہ سے اس كا شوہر مشكلات اور پريشانى كا شكار نہ ہو، بلكہ دونوں كى زندگى يكسوئى كے ساتھ بسر ہوتى رہىں .
كما في الدر المختار: وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) ... (فتجب للزوجة)... (على زوجها)... (بقدر حالهما) (3/572-573-574) وفي رد المحتار: وأما على المفتى به فتجب نفقة الوسط في المسألتين وهو فوق نفقة المعسرة ودون نفقة الموسرة. اهـ [تنبيه] صرحوا ببيان اليسار والإعسار في نفقة الأقارب ولم أر من عرفهما في نفقة الزوجة، ولعلهم وكلوا ذلك إلى العرف والنظر إلى الحال من التوسع في الإنفاق وعدمه، ويؤيده قول البدائع: حتى لو كان الرجل مفرطا في اليسار يأكل خبز الحوارى ولحم الدجاج والمرأة مفرطة في الفقر تأكل في بيت أهلها خبز الشعير يطعمها خبز الحنطة ولحم الشاة (3/575)
وفي الدر المختار: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة. وفي رد المحتار تحت: (قوله وكذا تجب لها) أي للزوجة السكنى أي الإسكان، وتقدم أن اسم النفقة يعمها؛ لكنه أفردها؛ لأن لها حكما يخصها نهر (قوله خال عن أهله إلخ) ؛ لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار ذلك؛ لأنها رضيت بانتقاص حقها هداية. (باب النفقة، ج: 3، ص: 599-600، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: والنفقة الواجبة المأكول والملبوس والسكنى أما المأكول فالدقيق والماء والملح والحطب والدهن كذا في التتارخانية وكما يفرض لها قدر الكفاية من الطعام كذلك من الآدام كذا في فتح القدير (الباب السابع عشر في النفقات، ج: 1، ص: 549، ط: مكتبة ماجدية)
وفي السنن الكبرى للبيهقي: عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قصة حجة الوداع قال: " فاتقوا الله في النساء فإنكم أخذتموهن بأمانة الله واستحللتم فروجهن بكلمة الله " (باب الكلام الذي ينعقد به النكاح، ج: 7، ص: 234، الرقم: 13823)
وفي مرقاة المفاتيح: (ولهن عليكم رزقهن) من المأكول والمشروب وفي معناه سكناهن (وكسوتهن بالمعروف) باعتبار حالكم فقرا وغنى أو بالوجه المعروف من التوسط الممدوح. (قصة حجة الوداع، ج: 5، ص: 439، ط: مكتبة حقانية)