میرا تعلق کراچی سے ہے، میرا ایک دوست جو خانیوال سے تعلق رکھتا ہے، ایک بہت عجیب مشکل کا شکار ہے،مسئلہ یہ کچھ اس طرح ہے کہ زید کی بیوی آٹھ ماہ کی حاملہ ہے۔ اس کی کسی الٹراساؤنڈ اسکین کی رپورٹ آئی ، جس کووہ محلے کی ایک نرس کو دکھانے چلی گئی، جبکہ اس کے شوہر نے اُسے منع کیا تھا ۔ اس کے باوجود وہ چلی گئی، جس کی وجہ سے دونوں میاں بیوی کے درمیان ناچاقی پیدا ہو گئی، اور وہ اپنی والد کے گھر چلی گئی۔
زید نے یہ ساری کہانی اپنے سالے کو بتائی، اور اُس سے کہا کہ ”میرے پاس اس کی ویڈیو موجود ہے“ جبکہ حقیقت میں کوئی ویڈیو نہیں تھی، اُس نے صرف اپنی بیوی سے سچ نکلوانے کے لیے اسے یہ کہا تھا کہ وہ مان جائے کہ وہ گئی تھی ،
زید نے جس وجہ سے اپنی بیوی کو روکا تھا کہ اُس کی جسمانی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے روکا تھا، ایک طرف زید کے سالے نے اپنے والد سے یہ ساری بات کی ، دوسری طرف بیوی سے بات کرنے کے بعد زید اور اس کی بیوی کے درمیان صلح ہوگئی لیکن تبھی زید کے سسر کا نوید کو فون آتا ہے۔وہ اسے دنیا جہاں کی گالیاں دیتا ہے اور کہتاہے کہ :”تو ہوتا کون ہے میری بیٹی کو روکنے والا؟“نزید نے جواب دیا کہ وہ اس کا شوہر ہے، اب زید کے سسر نے بات کو بڑانے کی کوشش کر رہا ہے، معاملہ مزید بگاڑ دیا، اور کو جبراً کہ رہا ہے کہ ”میری بیٹی کو طلاق دو!“
جبکہ نہ زید طلاق دینا چاہتا ہے، اور نہ اُس کی بیوی طلاق لینا چاہتی ہے۔وہ اپنے شوہر ( زید ) کے گھر واپس جانا چاہتی ہے، جس پر اس لڑکی کے والد نے اُس کا فون چھین لیا ہے وہ اپنے خاوند سے رابطہ نہیں کرسکتی وہ اپنے شوہر سے کہہ رہی ہے کہ میں آنا چاہتی ہوں پر میرے والد نے کہا ہے کہ:”اگر تم واپس گئی تو تمہارا مجھ سے تعلق ختم“ اب ان دونوں میاں بیوی کے لئے کیا حکم ہے، اوراس پر دین کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ برائے کرم دین کی روشنی میں اس مسئلے کا فیصلہ تحریر فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب میاں بیوی کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور ہوچکی ہیں اور میاں بیوی اپنا گھر بسانا چاہتے ہیں ، تو بیوی کے والد کا اپنی بیٹی کو بلاوجہ اپنے گھر روکے رکھنا ، اس کے شوہر کے گھر جانے نہ دینا ، اور اپنے داماد سے بیٹی کے طلاق کا مطالبہ کرکے بیٹی کا گھر برباد کرنا نہ صرف غیر دانشمندانہ عمل ہے، بلکہ شرعاً بھی انتہائی درجہ ناپسندیدہ عمل ہے۔ لہذا اسے چاہیئے کہ وہ اس کو اپنے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے بیٹی کے گھر کو آباد رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے ، اور میاں بیوی کو بھی چاہیئے کہ اس معاملہ میں کسی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے قبل سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی کوشش کریں، اور اس معاملہ میں جلد بازی کے بجائے مناسب موقع کا انتظار کریں ،وقت گزرنے کے ساتھ کافی چیزیں خود بخود بہتر ہوجائیں گی ۔
تاہم ان تمام کاوشوں کے با وجود اگر مذکورہ خاتون کاوالد کسی طرح ماننے کو تیار نہ ہو بلکہ بیٹی کے طلاق کروانے پر ہی مصر ہو تو چونکہ والد کا اپنی بیٹی کو ان کے شوہر کے گھر جانے نہ دینا اور اس کا طلاق کروانا خلاف شرع عمل ہے ، اورشریعت مطہرہ کے خلاف امور میں والدین کی اطاعت لازم نہیں ہے، لہذا اگر خاتون اپنے والد کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا گھر بچانے میں کردار ادار کرتی ہے تو اس کی وجہ سے وہ عنداللہ مأخوذ نہ ہوگی۔
کما فی صحیح المسلم: حدثنا قتيْبة بن سعيد، حدثنا ليث، عنْ عبيد اللهِ، عن نَافعٍ، عنِ ابْن عمرَ، عن النَّبي صلّى الله عليْه وسلّمَ، أَنه قالَ: على الْمرءِ الْمسْلِمِ السمْع والطاعة فيما أحبَ وكره، إلا أَنْ يؤْمر بمعْصية، فإن أمر بمعصية، فلا سمع و لا طاعة الحدیث ( بَاب وجوب طاعة الأمراء في غيرِمعْصية، وَتحْریمها فِي الْمعْصية،کتاب الأمارۃ، ج: 2، ص: 125، ط: قدیمی کتب خانہ )۔
وفی السنن الکبری: عن أبي عتبة، عن عائشة قالت: سألت النبي صلى الله عليه وسلم أي الناس أعظم حقا على المرأة؟ قال: «زوجها» قلت: فأي الناس أعظم حقا على الرجل؟ قال: أمہ الخ ( باب حق الرجل علی المرأۃ، کتاب عشرۃ النساء، ج: 8، ص: 254، ط: مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)۔
وفی الدر: (وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر، وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه الخ (کتاب الطلاق، ج:3، ص: 228، ط: سعید)۔