ہماری بستی میں ایک دو منزلہ مسجد موجود ہے،نچلی منزل میں مدرسہ، قاری صاحب کا کمرہ، واش روم ، اسٹور روم اور بستی والوں کے گزرنے کا راستہ ہے، جو مسجد کی اوپر والی منزل کے نیچے سے مشرق کی طرف نکلتا ہے،اوپری منزل پر نماز اور جمعہ ادا کیا جاتا ہے،مسجد کے شمال میں ایک بڑی آبادی ہے جس کے لوگوں کا آمد و رفت کا راستہ اسی تنگ مشرقی طرف والے راستے سے گزرتا ہے،موجودہ راستہ چونکہ تنگ اور غیر کشادہ ہے، اس کی وجہ سے روزانہ لوگوں کو آمد و رفت میں شدید تنگی اور مشکلات پیش آتی ہیں،اگر راستے کو مغربی سمت کی طرف منتقل کر دیا جائے اور موجودہ مشرقی سمت والے راستہ کو مسجد کا حصہ کر دیا جائے تو راستہ کشادہ اور بستی کے تمام لوگوں کے لیے زیادہ سہولت والا ہو جائے گا،اس تبدیلی سے مسجد کی عبادت گاہ یا دیگر حصوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ بستی والوں کی سہولت اور مصلحت میں اضافہ ہوگا،اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے،سوال:کیا شرعاً ہمارے لیے یہ جائز ہے کہ مسجد کے نیچے سے گزرنے والے راستے کو موجودہ مشرقی سمت سے ہٹا کر مغربی سمت میں منتقل کر دیا جائے تاکہ بستی کے لوگوں کو آسانی اور سہولت ہو؟
نوٹ: یہ موجودہ نقشہ ہےمشرق والی سائیڈ مسجد کی بالائی منزل کی چھت کے نیچے سے 8 فٹ راستہ گزر رہا ہے جو کہ اضافی جگہ لے کر نکالا گیا ہے ،جبکہ سرکاری راستہ جہاں پر قاری صاحب کا کمرہ اور سٹور روم شو کئے گئے ہیں وہاں سے گزر رہا ہے، یعنی مسجد کی توسیع کی خاطر بغیر سرکار کی اجازت کے مسجد کی توسیع کی گئی تھی،نقشہ میں ڈاٹ کے نشانات مسجد کے پلر ہیں،سرکاری راستہ میں نچلی منزل کے 4 پلر بھی آتے ہیں،
اس نقشہ میں ہم مشرق والی سائیڈ کا موجودہ راستہ اور سرکاری راستہ جو کہ پہلے سے مسجد میں لاعلمی کی وجہ سے ضم کیا گیا تھا،اس کو اسی طرح مسجد رکھتے ہوئے موجودہ راستہ کو بھی مسجد میں ضم کرنا چاہتے ہیں تا کہ ہماری نچلی منزل کا ناظرہ کا ہال،قاری صاحب کا کمرہ بھی واپس بن جائے اور جگہ بھی پوری رہے،اور اس کے بعد مسجد کا وہ 8 فٹ کا حصہ لے رہے ہیں جس پر پہلے کھبی نماز پڑھی گئی تھی، یاد رہے کہ یہ سارا عمل بالائی منزل کی چھت کے نیچے سے ہی کیا جائے گا تا کہ بالائی منزل جس پر مصلّہ شفٹ کر دیا گیا ہے کو کوئی نقصان نہ ہو،ہمارے پاس اور کوئی گنجائش نہیں ہے چونکہ مشرق والی اور مغرب والی سائیڈ پر قبرستان شمال والی سائیڈ پر گھر جو کہ بلکل مسجد سے متصل ہیں۔
سوال میں درج کردہ تفصیل اور منسلکہ نقشہ جات سے سوال کی پوری نوعیت واضح نہیں ہوئی، تاہم مذکور جگہ مسجد بنائے جانے کے بعد اور اس میں نمازیں پڑھی جانے کے بعد اب مسجد میں سے راستے بنانے کے متعلق معلوم کرنا ہو (جیسا کہ سوال میں نوٹ میں درج وضاحت سے معلوم ہو رہا ہے)تو واضح ہو کہ جب کوئی جگہ شرعی قواعد وضوابط کے ساتھ مسجد بنالی جائے تو وہ جگہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے، اس جگہ کی حیثیت تبدیل کر کے مسجد کے علاوہ کسی اور ضرورت میں اسے استعمال کرنا جائزنہیں،لہذا سوال میں مذکور مسجد کی فرشی ہال کو مستقل طور پر مدرسے میں بدل دینا اور اس میں ادائیگی جماعت کو ترک کر کے اوپر کی منزل کی طرف مستقل طور پر جماعت منتقل کرنا اسی طرح مسجد کے نچلے پورشن میں کسی حصہ کو شہید کر کے اس میں آبادی کیلئے راستہ بنانا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الشامیۃ: تحت (قولہ لا عکسہ الخ) (الی قولہ) لو جعل الطریق مسجدا یجوز لا جعل المسجد طریقا لأنہ لا تجوز الصلاۃ فی الطریق فجاز جعلہ مسجدا، و لا یجوز المرور فی المسجد فلم یجز جعلہ طریقا الخ (کتاب الوقف ج: 4، ص: 378، ط: ماجدیۃ) ۔
و فی التاتر خانیۃ: و إن أرادوا أن یجعلوا شیئاً من المسجد طریقا للمسلمین فقد قیل لیس لھم ذالک و أنہ صحیح الخ (الفصل الحادی والعشرون فی المساجد ج8، ص159، ط: رشیدیۃ)۔
وفی الھدایۃ: ومن إتخذ أرضہ مسجداً لم یکن لہ أن یرجع فیہ ولا یبیعہ ولا یورث عنہ لأنہ یحرز عن حق العباد وصار خالصا للہ تعالی وھذا لأن الأشیاء کلھا للہ تعالی وإذ سقط العبد ما ثبت من الحق رجع إلی أصلہ الخ (کتاب الوقف، ج2، ص643، ط: شرکت علمیۃ)۔