میرا نام ۔۔۔ ہے اور میرے شوہر کا نام حافظ محمد ۔۔۔۔ ہے۔ ہماری شادی کو تقریباً چار سال ہونے والے ہیں۔ میرے شوہر اور ان کے گھر والوں نے ہمیشہ میرے ساتھ برا رویہ رکھا ہے۔ شوہر میری بنیادی ضروریات بھی صحیح طرح پوری نہیں کرتے، مجھے بہت تنگ کرتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں اور مار پیٹ بھی کرتے ہیں۔ میری ساس بھی ہر وقت مجھے ذہنی طور پر اذیت دیتی رہتی ہیں۔ ایک مرتبہ ساس اور دیور نے مجھے اور میرے شوہر کو گھر سے بے عزت کرکے نکال دیا۔
میں شرعی پردہ کرتی ہوں، لیکن اس کے باوجود گھر میں پردے کے ساتھ سب کے کام کرتی ہوں۔ دیور آ جائیں تو ان کے لئےکھانا پکانا، برتن دھونا اور صفائی کرنا بھی مجھے کرنا پڑتا ہے۔ میری اولاد بھی نہیں ہے اور شوہر کی ٹیسٹ رپورٹ بھی درست نہیں آئی تھی، لیکن وہ اپنا علاج نہیں کرواتے۔ وہ کسی کی کوئی بات نہیں سنتے، الٹا غصہ کرتے اور گالیاں دیتے ہیں۔
اب میں کیا کروں؟ میں خلع نہیں لینا چاہتی، لیکن وہ نہ طلاق دیتے ہیں اور نہ خرچہ پورا کرتے ہیں۔ میں کوئی عیش و آرام نہیں مانگتی۔ اس نے کبھی مجھے کپڑے بھی لے کر نہیں دیے۔ میں اپنا آن لائن بزنس کرتی ہوں، ہاتھ سے کپڑے بناتی ہوں، اسی سے اپنا زیادہ تر خرچہ نکال لیتی ہوں۔ شوہر اکثر مجھ سے پیسے بھی لے لیتے ہیں۔ ایک مرتبہ مجھے چوٹ بھی آئی تھی، میں مائیکے آ گئی۔ اب دو مہینے ہونے والے ہیں کہ نہ وہ خرچہ دیتے ہیں اور نہ رابطہ کرتے ہیں۔ اگر میں رابطہ کروں تو الٹا باتیں سناتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔اس سے پہلے بھی میں دو مہینے میکے میں رہی، اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں نے اپنی دوست کے ساتھ اپنا دکھ درد بانٹا تھا۔ میں نے اپنے شوہر کو کچھ نہیں کہا تھا، لیکن انہوں نے باتیں اپنے ابو کے ذریعے میرے دیور اور شوہر تک پہنچا دیں، جس کی وجہ سے وہ مجھ سے ناراض ہو گئے۔
اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ ہر بار میں ہی سمجھوتہ کرتی ہوں اور انہی سے رابطہ کرتی ہوں۔ ان کے اندر انا بہت زیادہ ہےمیرے حق مہر میں آدھا تولہ سونا لکھا ہوا ہے لیکن شوہر نے وہ بھی لے لیا، اور صرف دو ماشے واپس دیے ہیں۔
وہ حافظِ قرآن اور عالم ہیں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ میں ان کے جتنے حقوق میرے اوپر ہیں، سب پورے کرتی ہوں۔میں نے بھی علم حاصل کیا ہے اور عالِمہ کا کورس کیا ہے۔ میں نے ان سے کئی بار کہا ہے کہ اگر آپ کے حالات ٹھیک نہیں ہیں تو مجھے نوکری کرنے دیں یا کسی جامعہ میں پڑھانے دیں۔ ان کا اپنا اسکول ہے، میں نے کہا مجھے وہاں لے جائیں، لیکن یہ نہیں مانتے۔ انہوں نے وہاں ٹیچرز رکھی ہوئی ہیں اور خود ان ٹیچرز سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار میں نے ان کے موبائل میں کسی ٹیچر کے ساتھ ان کی تصویر دیکھی تھی تو مجھے بہت غصہ آیا۔ مجھے یہ چیزیں بالکل پسند نہیں ہیں اور مجھے اس سب سے نفرت ہے۔ میں کسی غیر محرم سے بات تک نہیں کرنا چاہتی۔
سوال میں ذکر کردہ سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے شوہر اور اس کی فیملی کا سائلہ کے ساتھ مذکور طرز عمل شرعا و اخلاقاً کسی طرح درست نہیں جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئے ہیں جس پر انہیں بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ اس طر ح کے طرز عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔ اور چونکہ سائلہ کی بنیادی ضروریات کھانا ،پینا ، رہائش ،کپڑا شرعاً اس کے شوہر ذمہ لازم و ضروری ہے اس لئے اس کی ادائیگی میں کوتاہی اور ٹال مٹول سے کام لینا شرعاً درست نہیں ،بلکہ اسے چاہئے کہ وہ اپنی بیوی (سائلہ ) کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اپنی استطاعت کے مطابق اسے جیب خرچ دینے کا بھی اہتمام کرے جسے وہ اپنی مرضی سے خرچ کرسکے ۔
جہاں تک دومہینوں سے خرچ نہ دینے کے متعلق سوال ہے تو سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کہ وہ اس وقت اپنے میکے کیوں رہ رہی ہے؟ آیا کہ اس کے شوہر اسے اپنے گھر میں نہیں رکھنا چاہتے یا وہ اپنے شوہر کے اس طرز عمل کی وجہ سے ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر پر ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا تاہم اگر سائلہ اپنی مرضی سے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے میکے میں رہ رہی ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے گھر واپس آنے تک ان ایام کا خرچہ شرعاً اس کے شوہر ذمہ لازم نہیں اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔
جبکہ سائلہ کو چاہیے کہ خلع یا طلاق جیسے اہم فیصلوں میں جلد بازی سے کام لینے کے بجائے صبر و تحمل سے کام لے اور خود یا گھر کے معزز بزرگوں کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرے، تاکہ اُن کا گھر ٹوٹنے سے محفوظ رہے ۔
تاہم اگر واقعی سائلہ کے شوہر کے مالی حالات کمزور ہوں اور سائلہ پردۂ شرعی کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے جامعہ میں تدریسی خدمات سر انجام دینے کے لئے آمادہ ، تو ایسی صورت میں سائلہ کے شوہر کے لیے اسے (سائلہ کو) اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں،تاکہ باہمی تعاون کے ذریعے گھریلو ضروریات بہتر طور پر پوری ہوسکیں ۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه (545/1)
وفی الدرالمختار: وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس (572/3)
وفی الدر المختار مع رد المحتار: فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك
(قوله فيما عدا ذلك) عبارة الفتح: وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج إلخ (146/3)