میں آپ کی توجہ ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہوں جو میری طلاق کے بعد میرے حقوق سے متعلق ہے،میری شادی کو گیارہ سال ہو چکے ہیں،اس دوران میں نے گھر پر رہ کر بچوں کی پرورش کی اور اپنے شوہر کے کاروبار میں ان کی مدد کی، مگر مجھے اس کا کوئی معاوضہ نہیں ملا،شادی سے پہلے میرے شوہر کے پاس کوئی جائیداد یا دولت نہیں تھی ،جو کچھ بھی بنا وہ شادی کے دوران بنا،میں نے ان کے بیمار والدین کی بھی مکمل دیکھ بھال کی تاکہ وہ اطمینان سے اپنے کام پر جا سکیں، اور انہیں کسی نگران یا ملازم کی ضرورت نہ پڑے، میں نے ان کے ساتھ مکان کی مرمت وغیرہ میں بھی ہاتھ بٹایا، جس کے دوران میری کمر میں چوٹ لگی اور آج تک وہ تکلیف باقی ہے، جب ہمارے بچے پیدا ہوئے تو حکومت کی طرف سے بچوں کے لیے کچھ رقم دی گئی، میرے شوہر نے وہ رقم اپنے کاروبار میں لگا دی، اور اس سرمایہ کاری سے کاروبار کی مالیت میں اضافہ ہوا،طلاق سے پہلے میرے شوہر نے مجھ سے کہا تھا"اگر ہم میں طلاق ہو گئی تو میں اپنے بچوں کی ماں کو سڑک پر نہیں چھوڑوں گا ،میں تمہارے رہنے کے لیے ایک گھر خریدوں گا" میرے ایک قریبی رشتہ دار نے بعد میں ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا، تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی، میرے پاس اپنی کوئی بچت نہیں ہے، اگر مجھے کچھ ملتا ہے تو میری نیت صرف یہ ہے کہ میں اپنے ،اور بچوں کے لیے ایک معمولی سا گھر خریدوں، جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا،یہ گھر بچوں کے نام منتقل کر دیا جائے گا جب وہ بڑے ہو جائیں گے،میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کے دوران دی گئی خدمات، بچوں کی رقم کا ان کے کاروبار میں استعمال، اور ان کا یہ واضح وعدہ کیا یہ وعدہ اسلامی طور پر پابند (شرعاً لازم) ہے؟
سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق سائلہ کے شوہر کا سائلہ کی حق تلفی کرنا، اور سائلہ کو بغیر کسی شرعی عذر کے طلاق دینا توقطعاً مناسب نہیں ،بلکہ اللہ تعالی کی نگاہ میں مبغوض اور نا پسندیدہ عمل ہے ،جس سے میاں بیوی کو حتی الامکان اجتناب چاہیئے ، تاہم سائلہ نے ازدواجی زندگی کے دوران شوہر کے ساتھ جو تعاون کیا ہے ،یا اپنے ساس سسر کی خدمت اور دیکھ بھال کی ہے ، اس پر وہ اگر چہ اللہ تعالی کے ہاں اجر و ثواب کی مستحق ہو گی ،البتہ سائلہ کو اپنے شوہر سے اس تعاون یا خدمت کے بدلے معاوضہ وصول کر نے کا حق نہیں ، اسی طرح سائلہ کے شوہر نے سائلہ کے ساتھ اسے گھر لے کر دینے کا جو وعدہ کیا تھا ،اگرچہ اس کے ذمہ شرعاً اس وعدے کی پاسداری لازم ہے ،اور بغیر کسی عذر کے وعدہ خلافی کرنا جائز نہیں ،تاہم سائلہ کو بذریعہ عدالت فقط اس وعدے کی بناء پر شرعاً اس سے مکان کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہو گا،جبکہ بچوں کی پیدائش پر حکومت کی طرف سے دی جانے والی رقم اگر بچوں کے لیے مختص تھی ، تو وہ بچوں ہی کی ملکیت تھی ،والد کے لیے اس رقم کو بچوں کی ضرورت کے بجائے اپنے ذاتی استعما ل میں لانا درست نہیں ،تاہم بچوں کی جس قدررقم اس نے کاروبار میں لگائی ہے ، تو اب اتنی ہی رقم بچوں کو واپس کرنا اور اس رقم کے بقدر جو منافع حاصل ہوا ہے وہ منافع بھی دیانۃ بچوں کو دینا لازم ہے ۔