میری شادی کو 13 سال ہو گئے ہیں، تین بچے ہیں، میرے شوہر 12 سال کویت میں رہے تھے ،اب جا کر ہم نے ساتھ رہنا شروع کیا ہے، پاکستان شفٹ ہونے کی وجہ سے معاشی حالات کمزور ہیں، لیکن میں نے صبر کیا ہوا ہے، جب سے وہ آئے ہیں میری زندگی اجیرن کر دی ہے ،اس آدمی کو مجھ میں ہر برائی نظر آتی ہے، نہ اسے بچوں سے محبت ہے نہ مجھ سے، وہ صاف کہتا ہے کہ میری زندگی میں بڑی غلطی ہے تم سے شادی کرنا ،ہر وقت میرے گھر والوں کو برا بھلا بولنا ،میں نے پیار سے بہت سمجھایا ،لیکن وہ خود پسند ہے وہ نہیں سنتا ،میری اب برداشت سے باہر ہو رہا ہے اس کا رویہ ،میری ہر کوشش زیرو ہے ، میں نے اس کے بچے پالے اس کے پیچھے ،اس پر بھی وہ کہتا ہے کہ سب کرتے ہیں ایسا تم انوکھی نہیں ہو، ہمارے بیچ کوئی احساس محبت اور عزت باقی نہیں رہی ہے ،مجھے کیا فیصلہ کرنا چاہیے ،آرام سے بیٹھ کر بات کر چکی ہوں ،وہ آدمی اپنے ماں کی بھی نہیں سن رہا ،ایسے بہانے کر رہا ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی کی ہے ہم سب نے ۔
واضح ہو کہ نکاح کے بندھن میں آنے کے بعد جیسے بیوی پر خاوند کی اطاعت، فرمانبرداری اور دیگر حقوق واجب اور لازم ہوتے ہیں ، ایسا ہی خاوند پر بھی بیوی کا نان ونفقہ، سکنی اور دیگر حقوق کی ادائیگی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا بھی لازم ہوتا ہے، خاوند کے لیے قطعاً یہ جائز نہیں ہےکہ اپنی بیوی کے ساتھ بد سلوکی کرے، یابغیر کسی عذر کے اسے کسی بھی طرح جسمانی یا ذہنی اذیت دیدے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو سائلہ کے شوہر کا سائلہ کے ساتھ سوال میں مذکور سلوک ورویہ رکھنا قطعاً جائز نہیں، اسے چاہیئے کہ اپنے ان افعال پر اللہ تعالی کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے، اور اپنی بیوی سے بھی معافی تلافی کر کے آئندہ کیلئے اس طرح کے ناروا سلوک سے اجتناب کرے، اور سائلہ کو بھی چاہیئے کہ از خود یااپنے خاندان کے بڑوں کے ذریعہ حکمت اور نرمی کے ساتھ اس کو سمجھا کر مذکور رویہ سے باز رہنے کی کوشش کرے، اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی ، اس کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کے ساتھ اس کے لیے دعاؤں کا بھی اہتمام کرے، انشاء اللہ امید ہے کہ وہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز آجائے۔
کما فی أحکام القرأن للجصاص: (و عاشروھن بالمعروف) امر للازواج بعشرۃ نسائھم بالمعروف و من المعرروف أن یوفیھا حقھا من المھر و النفقۃ و القسم و ترک أذاھا بالکلام الغلیظ و الإعراض عنھا و المیل إلی غیرھا و ترک اللعبوس و القطوب فی و جھھا بغیر ذنب و ما جری ذلک و ھو نظیر قولہ تعالی ( فامساک بالمعروف أو تسریح بإحسان الخ ( ج: 2، ص:109،ط: سہیل اکیڈمی لاھور )۔
و فی تفسیر روح المعانی: ( و عاشروھن) أی خالقوھن ( بالمعروف) و ھو ما لا ینکر الشرع و المروءۃ و المراد ھھنا النصفۃ فی القسم و النفقۃ و الاجمال فی القول و الفعل و قیل المعروف أن لا یضربھا و لا یسئ الکلام معھا و یکون منبسط الوجھ لھا و قیل أن یتضع لھا کما تتوضع لہ و استدل من بعمومہ من أوجب لھن الخدمۃ إذا کن ممن لا یخدمھن أنفسھن و الخطاب للذین یسیئون العشرۃ مع أزواجھم الخ (ج: 4، ص:243، ط: مکتبۃ امدادیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: و منھا المعاشرۃ بالمعروف و أنہ مندوب الیہ و مستحب قال اللہ تعالی و عاشروھن بالمعروف قیل ھی المعاشرۃ بالفضل و الإحسان قولا و فعلا و خلقا قال النبی ﷺ خیرکم خیرکم لأھلہ و أنا خیرکم لأھلی الخ ( ج: 2، ص:334، ط: سعید)۔