السلام علیکم مفتی صاحب !
براہ کرم مجھے اس مسئلہ کے بارے میں مشورہ دیں ،مسئلہ یہ ہے کہ دسمبر 2023 میں میرے بیٹے کی شادی میرے ایک دوست کی بیٹی سے ہوئی ،اس وقت بطور والدین ہم نے بیس ہزار (20000)روپے مہر طے کیا ،نکاح دن دلہن نے مطالبہ کیا کہ نکاح نامے میں حج کو مہر کے ساتھ شامل کیا جائے ہم نے یہ سوچھ کر مان لیا کہچونکہ میں سعودی عرب میں کام کرتا ہوںوہ وہاں آکر حج کرے گی وہ گئی بھی اور عمرہ ادا کی،مگر بد قسمتی سے یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی، اس دوران دلہن نےکئی مرتبہ طلاق کا مطالبہ کیا آخر کار طلاق ہوگئی، ہم پہلے ہی بیس ہزار مہر ادا کرچکے ہیں لیکن اب وہ حج کے پیسوں کا بھی مطالبہ کر ہے ہیں ،جون 2024 سے وہ اپنے تمام سامان کے ساتھ واپس چلی گئی، ہم نے اس کے اخراجات کے طور پر مزید چار لاکھ(400000) روپے بھی دئے ،اور اب وہ اپنے والین کے گھر رہ رہی ہے ، میرا سوال یہ ہےکہ کیا ہمیں اب بھی اسکے مزید نان نفقے (living,expenses) یا دیگرخرچ ادا کرنے کی ضرورت ہے؟ براہ کرم اسلامی تعلیمات کے مطابق راہنمائی فرمائیں، جزاکم اللہ خیرا۔
واضح ہو کہ حق مہر وہ چیز بن سکتی ہے جس میں مال بننے کی صلاحیت ہو اور حج مال نہیں اسلئے وہ مہر نہیں بن سکتا ،لہذا نکاح مکمل ہونے کے بعد فارم میں ادائیگی حج کو بطور مہر لکھوانے سے سائل کے بیٹے کے ذمہ اپنی بیوی کو حج کرانا لازم نہیں ہوا ا ور نہ ہی وہ اس مد میں ادائیگی حج پر آنے والے اخراجات کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے لہذا انہیں اپنے اس بے جا مطالبہ سے اجتناب چاہئے جبکہ نکاح کے بعد نفقہ کے لازم ہونے کیلئے بیوی کا شوہر کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی منشاء اور اجازت کے مطابق میکے یا سسرال میں رہائش اختیار کرنا یا طلاق کے بعد عدت شوہر کے گھر گزارنا لازم ہے ورنہ علیحدگی بعد اپنی مرضی سے والدین کے یہاں آنے کی صورت میں وہ دوران عدت نان و نفقہ کی حق دار نہ ہوگی
کمافی الھدایۃ:(وان تزوج حر امراۃ علی خدمتہ ایاھا سنۃ ،او علی تعلیم القرآن فلھا مھر مثلھا)ولنا ان المشوع انما ھو الابتغاءباالمال والتعلیم لیس بمال(باب المھر۔ج:2،ص:800،ناشر:مکتبہ بشری)
وفی الھندیۃ:وإذا تزوج على تعليم الحلال والحرام من الأحكام أو على الحج والعمرة ونحوهما من الطاعات لا تصح التسمية عندنا(الباب السابع فی المھر،ج:1،ص:303،ناشر:ماجدیۃ)
أن يحج بها كان لها مهر مثلها كذا في فتاوى قاضي خان(الباب السابع فی المھر،ج:1،ص:303،ناشر:ماجدیۃ)
وفی بدائع الصنائع: فقد اختلف العلماء فيه قال أصحابنا سبب وجوبها استحقاق الحبس الثابت بالنكاح للزوج علیھاالی قولہ ولنا أن حق الحبس الثابت للزوج عليها بسبب النكاح مؤثر في استحقاق النفقة لها عليه لما بينا(کتاب النفقۃ،ج:4،ص:15،ناشر:ایچ ایم سعید)
وفی الدرالمختار شرح تنویر الابصار: باب النفقة هي لغة ما ينفقه الإنسان على عياله وشرعا ( هي الطعام والكسوة والسكنى ) وعرفا هي الطعام ( ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة زوجية وقرابة وملك )( باب النفقۃ،ج:3،ص:572،ناشر:ایچ ایم سعید)