کیا اسنوکر کلب کا کاروبار کرنا حرام ہو گا یا حلال؟ اگر میں کلب میں یہ بات لکھ کر لگاتا ہوں کہ جوا کھیلنا سختی سے منع اور حرام ہے اور اس شرط پے کھیلنا بھی جوا ہوتا ہے کہ جو ہارے گا وہ پیسے دے گا، لیکن زیادہ تر جو پلیئر کھیلنے آتے ہیں وہ آپس میں یہ بات طے کرتے ہیں جو ہارے گا وہ پیسے دے گا، اور اس بات کا علم اسنوکر کے مالک کو بھی ہوتا ہے، لیکن اس بات میں مالک کا کوئی دخل نہیں ہوتا اور انہیں منع نہیں کرتا، مالک کو بس اپنی گیم کے پیسے دینے ہوتے ہیں، وہ جو مرضی دے ہارنے والا یا جیتنے والا، تو کیا اسنوکر کے مالک کے لئے یہ حرام ہو گا یا حلال؟
واضح ہو کہ اسنوکر کے کھیل میں عام مروج طریقہ یہی ہے کہ ہارنے والا فرد اسنوکر فیس کی پوری ادائیگی کرتا ہے، جو کہ شرعاًجوے ہی کی زمرے میں آتا ہے ،اگرچہ اسے نام یا ٹائیٹل فیس کا ہی دیا جائے، نیز ایسے مقامات میں عموماً اس کھیل میں پڑ کر نمازوں کا ضیاع لازمی امر ہے، اور یہ مقامات آپس میں بداخلاقی اور گالم گلوچ کا مرکز بھی ہوتے ہیں، اس لیے اسنوکر کلب کو ذریعہ معاش بنانے میں چونکہ غیر شرعی کاموں میں معاونت کرنا لازم آتا ہے، اس لیے اسنوکر کلب کو ذریعہ معاش بنانے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تکملۃ فتح الملهم : فالضابط في هذا أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته و ليس له غرض صحيح مفيد في المعاش و لا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، وھذا امر مجمع علیہ فی الامۃ،متفق علیہ بین الائمۃ وماکان فیہ غرض ومصلحۃ دینیۃ او دنیویۃ فان ورد النھی عنہ من الکتاب أو السنۃ (کما فی النرد شیر) کان حراما أو مکروھا تحریما (الی قولہ) وذالک کالشطرنج فان النھی الوارد فیہ متکلم فیہ من جھۃ الروایۃ والنقل فثبت عند الحنفیۃ وعامۃ الفقھاء فکرھوا، ولم یثبت عند ابن المسیب وابن مغفل وفی روایۃ عند الشافعی ایضاً فأباحوا الخ (حکم الالعاب فی العریعۃ،ج4،ص435،ط: دارالعلوم کراچی)۔
وفي الدر المختار: (و) کرہ تحریما (اللعب بالنرد و) کذا (الشطرنج) (الی قولہ) واباحہ الشافعی وابو یوسف فی روایۃ ونظمھا شارح الوھبانیۃ فقال : ولا باس بالشطرنج وھی روایۃ عن الحبر الشرب والغرب تؤثر وھذا اذا لم یقامر ولم یداوم ولم یخل والا فحرام بالاجماع الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قولہ و الشطرنج) معرب شدرنج و إنما کرہ لأن من اشتغل بہ ذھب عناءہ الدنیوی و جاءہ العناء الأخروی فہو حرام و کبیرة عندنا و في إباحتہ إعانة الشیطان علی الإسلام و المسلمین الخ (کتاب الحظر والاباحۃ، ج6،ص394، ط:سعید)۔