السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
میرے بیٹے کا 22 اگست 1999 ء بروزِ اتوار کو نکاح منعقد ہوا تھا،نکاح کے دوران مجمع کے سامنے جس میں گواہ بھی موجود تھے اور دلہن کے وکیل کی موجودگی میں ،میں نے یہ بات کی تھی کہ میں اپنی بہو کو میٹروویل میں موجود مکان نمبر B401 کا آدھا حصہ و زیورات بطورِ ہبہ کے دوں گا اور میں نے یہ بات بطورِ ثبوت نکاح نامہ کے شرطِ خاص والے کالم میں درج کی تھی،جو کہ وہاں موجود ہے،اب میں یہ حصہ و زیورات اپنی بہو کے نام کرنا چاہتا ہوں اس طور پر کہ (میں نے بطورِ ہبہ کے مکان B401 کا آدھا حصہ بہو کی ملکیت میں دے دیا ہے،اب اس مکان کے حصہ و زیورات میں میرے مرنے کے بعد بھی میری دوسری بہو یا بیٹے مطالبہ نہیں کر سکتے،یہ شرعاً و قضاءً میں نے اپنی بہو کے سپرد کر دیا ہے)تو کیا اس کے بعد دیگر اولاد اس میں شرکت کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرسکتاہے، جبکہ ہبہ کی صحت و درستگی کے لئے ( جو چیز ہبہ کی جا رہی ہے) اس پر شرعاً قبضہ دینا ضروری ہوتا ہے،فقط کاغذات میں نام کرنے یا منہ زبانی کہنے سے ہبہ( گفٹ) تام نہیں ہوتا،لہذا سائل نکاح کے موقع پر اپنی بہو کے ساتھ کئے جانے والے وعدہ کو پورا کرنے کی غرض سے اگر اسےمکان کا آدھا حصہ ہبہ کرنا چاہتا ہے،تو شرعاً ایسا کرنا جائز اور درست ہے،تاہم فقط نام کرنے سے چونکہ شرعاً بہو اس آدھے مکان کی مالک نہ ہوگی،اس لئے سائل کو چاہیئے کہ یا تو آدھا گھر اپنی بہو پر معلوم قیمت پر فروخت کر کے پھر اسے قیمت معاف کرےیا آدھا گھرباقاعدہ تقسیم کر کے ان کو اپنے حصے پراور جو زیورات اسے دینا چاہے ان زیورات پر باقاعدہ مالکانہ حقوق وتصرف کے ساتھ باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،چنانچہ اس طرح کرنے سے شرعاً سائل کی بہو مذکور مکان میں سے اسے دیئے گئے حصے اور زیورات کی مالک بن جائے گی،لہذا اس کے بعد سائل کی اولاد میں سے کسی کو بھی اس میں سے حصے کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہو گا۔
کما فی الدر المختار: و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح الخ
و فی الشامیۃ تحت: (قوله: مشاع) أي: فيما يقسم كما يأتي، وهذا في الهبة (الی قولہ) [فائدة] من أراد أن يهب نصف دار مشاعا يبيع منه نصف الدار بثمن معلوم ثم يبريه عن الثمن بزازية الخ(كتاب الهبة،ج 5،ص 688،ط:سعید)۔
وفی الدر المختار: ولو سلمه شائعا لا يملكه فلا ينفذ تصرفه فيه) فيضمنه وينفذ تصرف الواهب درر الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله: ولو سلمه شائعا إلخ) قال في الفتاوى الخيرية: ولا تفيد الملك في ظاهر الرواية قال الزيلعي: ولو سلمه شائعا لا يملكه حتى لا ينفد تصرفه فيه فيكون مضمونا عليه، وينفذ فيه تصرف الواهب ذكره الطحاوي وقاضي خان وروي عن ابن رستم مثله (الی قولہ)وذكر قبله هبة المشاع فيما يقسم لا تفيد الملك عند أبي حنيفة، وفي القهستاني لا تفيد الملك، وهو المختار كما في المضمرات، وهذا مروي عن أبي حنيفة وهو الصحيح الخ(كتاب الهبة،ج 5،ص 692،ط:سعید)۔
وفی الدر المختار: ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) و الاصل ان الموھوب إن مشغولا بملک الواھب منع تمامھا و ان شاغلا لا الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ص 690، ط : ایچ ایم سعید )۔
وفی الھندیۃ: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب الخ(كتاب الهبة،ج 4،ص374،ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً:ولا تصح في مشاع يقسم ويبقى منتفعا به قبل القسمة وبعدها، هكذا في الكافي. ويشترط أن يكون الموهوب مقسوما ومفرزا وقت القبض لا وقت الهبة بدليل أنه لو وهب له نصف الدار شائعا ولم يسلم حتى وهب النصف الآخر وسلم الكل تجوز، كذا في الظهيرية الخ( كتاب الهبة،ج 4،ص377،ط:ماجدیۃ)۔