السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
گھر 19 مرلے پر مشتمل ہے۔ سوال ( 1 ) مجھے 16 مرلے میں سے 1/5 حصہ ملے گا یا پھر کل مکان کا 1/5 حصہ ملے گاجیسے کہ کابین نامہ میں درج ہے کہ کل مکان کا 1/5 حصہ ۔
( 2 ) یہ گیٹ والی جگہ کس کی ہے ؟ کابین نامے میں درج ہے کہ چاردیواری پر محیط کل مکان کا 1/5حصہ مین گیٹ کے ساتھ سعدیہ عنبریہ کی ملکیت ہے، اور تب سے آج تک ہم اس جگہ رہائش پذیر ہیں۔کیا چار دیواری اور کل مکان میں یہ والی جگہ نہیں آتی ؟
میری شادی سے پہلے شادی کی شرائط میں شامل تھا اور اسے ایک ہفتہ پہلے کابین نامہ میں لکھا گیااور یہ نکاح نامہ میں بھی درج ہے۔
( 3 ) سسر اپنے مکان کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر اپنے بیٹے کو لکھ کر دینا( یعنی بیٹے کا حصہ بہو کو دینا ) حق مہر ہوتا ہے ؟ اگر یہ حق مہر ہے تو اسے قرآن مجید یا حدیث سے ثابت کردیں، یا پھر میراث کی کتابوں سے یا کسی اور اسلامی تعلیمات سے اگر یہ حق مہر نہیں تو وہ بھی ثابت کردیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی (سعدیہ عنبر) کو ان کے سسر کی جانب سے جو مکان دیا گیا ہے، اگر نکاح کے وقت یا "کابین نامہ" لکھتے وقت اسے بطورِ مہر مقرر نہیں کیا گیا تھا، جیسا کہ کابین نامے سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے، تو ایسی صورت میں مذکورہ مکان جو کابین نامے میں درج حدود کے مطابق ہے جس میں چھ کمرے، ایک ہال، ایک کچن، اور چاردیواری کے ساتھ مین گیٹ بھی شامل ہے چونکہ سعدیہ عنبر کو باقاعدہ قبضے اور تصرف کے ساتھ دیا گیا ہے، اس لیے وہ اب شرعاً سعدیہ عنبر کی ملکیت شمار ہوگا۔جبکہ حقِ مہر الگ سے پانچ ہزار روپے مقرر کیا گیا تھا، لہٰذا سعدیہ عنبر کو دیا جانے والا یہ مکان بطورِ مہر شمار نہیں کیا جائے گا۔
کما فی الدر المختار:( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل (و لو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ) و الأصل أن الموھوب إن مشغولاً بملک الواھب منع تماماً إلخ
وفی رد المحتار تحت ( قولہ بالقبض ) فیشترط القبض قبل الموت و لو کانت فی مرض الموت للأجنبی کما سبق فی کتاب الوقف کذا فی الھامش (قولہ بالقبض الکامل) و کل الموھوب لہ رجلین بقبض الدار فقبضاھا جاز خانیۃ إلخ (کتاب الھبۃ، ج 5، ص 690، ط سعید)-
وفی مجمع الأنھر: لا تجوز الھبۃ إلا مقبوضۃ اھ (کتاب الھبۃ، ج: 3، ص: 491، ناشر: مکتبۃ غفاریۃ)-
وفی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالأیجاب والقبول ، و تتم بالقبض الکامل لأنھا من التبرعات والتبرع لا تتم إلا بالقبض اھ (رقم المادۃ: ج: 1، ص: 462، ناشر: حنفیۃ)-
وفی الھندیۃ: (ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى ثم ينظر إن كان المسمى عشرة فصاعدا؛ فليس لها إلا ذلك، وإن كان دون العشرة يكمل عشرة عند أصحابنا الثلاثة اھ (الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج:1، ص: 303، ناشر: ماجدیہ)-