ہمارے علاقے میں رواج ہے کہ بچی کا رشتہ طے کرتے وقت والدین کرنسی کی صورت میں حق مہر کے علاوہ بچی کی ازدواجی زندگی کے تحفظ کی خاطر کچھ شرائط طے کرتے ہیں،جن میں مکان یا جائیداد کا کچھ حصہ بھی بچی کے نام انتقال یا رجسٹری کرایا جاتا ہے،یا نکاح نامہ و کابین نامہ میں قطعی ملکیت لکھوایا جاتا ہے،اگر نکاح نامہ میں حق مہر کے عوض مکان کا حصہ کو کالم میں ازدواجی زندگی کے تحفظ کیلئےمکان کا طے شدہ حصہ نہیں لکھوایا گیا ہو،بلکہ نکاح نامہ میں شرائط ہی کے کالم میں لکھوایا گیا ہوتو کیا یہ حق مہر شمار ہوگا یا ہبہ ہر دونوں صورتوں میں بغیر طے شدہ حصہ پر مکمل قبضہ و مکمل تصرف کے بغیر وہ حصہ بچی کی ملکیت ہو گا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب مہر الگ سے نقدی کی صورت میں طے کر کے تحریر کر لیا گیا ہےتو یہ بہر صورت واجب الاداء ہے،جبکہ مکان یا اس کا کچھ متعین حصہ اگر حقِ مہر کا عوض طے نہیں کیا گیا تو محض لکھنے سے (چاہے قطعی ملکیت کے انداز میں کیوں نہ تحریر کیا جائے) وہ لڑکی کی ملکیت نہیں بنے گا، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں جب لڑکی کو باضابطہ مالکانہ قبضہ وتصرف کے ساتھ مذکور مکان یا اس کا کچھ متعین حصہ نہیں دیا گیااور نہ ہی حقِ مہر کے عوض کے طور پر اس کا تذکرہ کیا گیا ہے تو لڑکی اس کی حقدار نہیں، تاہم شوہر اور اس کے خاندان والوں کی طرف سے لڑکی کو حقِ مہر کے علاوہ مکان یا مکان کا مخصوص حصہ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے،توشوہر اور اس کے اہلِ خانہ کے ذمہ اس وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے لڑکی کو حسبِ وعدہ مکان یا مکان کا متعین حصہ دینا دیانۃً لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : وأوفوا بالعھد إن العھد کان مسؤلا (سورۃ بنی اسرائیل، آیۃ 36)۔
وفی سنن ابی داؤد: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسولﷺ الصلح جائز بین المسلمین، زاد احمد الا صلحاً حرم حلالا أو احل حراما زاد سلیمان بن داود وقال رسول اللہﷺ المسلمون علی شروطھم الخ (باب فی الصلح، ج2، ص1359،ط:بشری)۔
وفی المصنف لعبد الرزاق: عبد الزاق عن الثوری عن الاجلح عن عدی بن عدی عن رجل عن عمر قال رفعت الیہ امرأۃ تزوجھا رجل وشرط لھا دارھا فقال عمر أوف بشرطھا
وفیہ ایضاً: عبد الرزاق عن ابن جریج والثوری أن عبد الکریم اخبرھما عن ابی عبیدۃ بن عبداللہ ابن مسعود قال أتی معاویۃ فی امرأۃ شرط لھا زوجھا أن لھا دارھا فسأل عمرو بن العاص فقال اری ان یفی لھا بشرطھا الخ (باب الشرط فی النکاح، ج6، ص228، ط:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)۔