میرے شوہر جب بھی اپنی والدہ کو میرے کہنے پر ان کے گھر چھوڑنے جاتے ہیں تو واپس آکر ناراض ہوجاتے ہیں،اور بستر الگ کرلیتے ہیں۔ جبکہ میری ساس میرے بیڈ پہ سوتی ہیں، میرا ہی واش روم استعمال کرتی ہیں، جس کی وجہ سے میں پریشان ہوجاتی ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں شوہر کا معمولی بات پر بار بار ناراض ہونا اور بلا وجہ بستر الگ کر کے بیوی کو اذیت دینا ہے، شرعاً درست نہیں۔ اسی طرح بیوی کے لیے اپنی خلوت، بستر اور نجی واش روم کی سہولت ایک جائز حق ہے، اگرسائلہ کی ساس کااس کے نجی استعمال کی جگہ میں مسلسل دخل انداز ہوناواقعۃً تکلیف اوراذیت کا سبب بن رہاہواوراس کی وجہ سےاسکی نجی زندگی میں خلل واقع ہورہاہوتو وہ نرمی وحکمت کےساتھ شوہرکے ذریعےانھیں منع کرنے کاحق رکھتی ہے۔اسی طرح سائلہ کی ساس کوبھی چاہیے کہ وہ خواہ مخواہ بیٹےوبہووکی نجی زندگی میں غیرضروری مداخلت سے گریزکریں۔البتہ اگرسائلہ کوساس کے مذکورطرزِعمل سے کوئی حقیقی تکلیف نہ ہو تومحض طبعی ناگواری کی وجہ سےبے جا ایسا مطالبہ کرنامناسب نہیں، چونکہ بیٹے پروالدہ کی خدمت بھی شرعاً لازم ہے ،چنانچہ بیوی کا گھرکی بنیادی ضروریات کی چیزوں کے استعمال سے ساس کوروکنایا بلاوجہ محض ضد کی بنا پر ساس کو گھر سے بھیجنے پر اصرار کرنا درست طرزِعمل نہیں ہے،جس سے بہرصورت اجتناب برتناچاہیے،لہذاسائلہ اوراس کی ساس دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اعتدال و حسنِ معاشرت اختیار کریں۔
کما فی القرآن المجید: (و ھو الذی خلق من المآء بشرا فجعلہ نسبا و صھرا)۔ الآیۃ۔ (سورۃ الفرقان، آیت نمبر: 54)۔
و فی تفسیر القرآن الکریم و إعرابہ و بیانہ:(و هو الذي خلق من الماء بشرا فجعله نسبا وصھرا و كان ربك قديرا) الشرح: (و هو الذي خلق من الماء بشرا) يحتمل الماء أمرين: أحدهما: المراد به الماء الذي خمر به طينة آدم، عليه الصلاة والسلام. والثاني: المراد به النطفة(إلی قولہ)(فجعله نسبا وصھرا) أي: خلق الله من الماء المذكور بشرا وقسمه قسمين: ذوي نسب، أي: ذكور ينسب إليهم، وذوات صھر، أي: إناثا يصھر بھن، و هو كقوله تعالى: (فجعل منه الزوجين الذكر و الأنثى)۔ (و كان ربك قديرا) حيث خلق مادة واحدة بشرا، ذا أعضاء مختلفة، و طباع متباعدة، و جعله قسمين متقابلين، لا يمكن التعايش إلا باجتماعھما، و لا يعمر الكون إلا بتمازجھما واختلاطھما. هذا، و اشتقاق الصھر من صھرت الشيء: إذا خلطته، فكل واحد من الصھرين قد خالط صاحبه، فسميت المناكح صھرا لاختلاط الناس بھا، وتقاربھم بسببھا(إلی قولہ) تنبيه: قال الخليل: الصھر: أهل بيت المرأة، و قال: و من العرب من يجعل الأحماء، و الأختان جميعا أصھارا. و قال الأزهري: الصھر يشتمل على قرابات النساء ذوي المحارم، و ذوات المحارم، كالأبوين، و الإخوة، و أولادهم، و الأعمام، و الأخوال، و الخالات، فھؤلاء أصھار زوج المرأة، و من كان من قبل الزوج من ذوي قرابته المحارم، فھم أصھار المرأة أيضا، و قال ابن السكيت: كل من كان من قبل الزوج من أبيه، أو أخيه، أو عمه، فھم الأحماء، و من كان من قبل المرأة؛ فھم الأختان، و يجمع الصنفين: الأصھار، و صاهرت إليھم، و لھم، و فيھم: إذا تزوجت فيھم إلخ۔ (سورۃ الفرقان، آیت نمبر:54، ج 6، ص 503، ط: دار ابن کثیر دمشق)۔
وفی بدائع الصنائع:ومنھا المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى:(وعاشروهن بالمعروف)(النساء: 19) قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم (خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي)، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملھا بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبھا هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجھا بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في قوله تعالى (ولھن مثل الذي عليھن بالمعروف) (البقرة: 228) أن الذي عليھن من حيث الفضل والإحسان هو أن يحسن إلى أزواجھن بالبر باللسان،والقول بالمعروف إلخ۔(فصل المعاشرة بالمعروف، ج 2، ص 334، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔