السلام علیکم ،میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم ٹک ٹاک پر ایک ایسا کنٹینٹ بنا کر اپلوڈ کرتے ہیں جو صرف ایک اسٹوری کی صورت میں ہوتا ہے، جس میں کسی عریانی یا لغو یات کا عنصر شامل نہیں ہوتا، لیکن ایسا کنٹینٹ ایک ایسے طریقے سے اپلوڈ کیا جاتا ہے، جس میں کسی دوسرے ملک کا اکاؤنٹ وی پی اینV.P.N لگا کر اپریٹ کیا جاتا ہے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ یہ کنٹینٹ اس ملک سے اپلوڈ کیا گیا، کیونکہ ٹک ٹاک کا کرییٹر ریوارڈ پروگرام پاکستان میں نہیں ہے، تو اس لیے ایک بھائی کےپاس طریقہ آزمایا جاتا ہے،تاکہ ارننگ حاصل کی جا سکے، تو کیا یہ جائز ہے یا ناجائز ؟یا اس سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہے یا حرام ہے؟ جزاک اللہ خیر اس معاملے میں تصحیح فرما دیں۔
یوٹیوب، ٹک ٹاک ودیگرسوشل پلیٹ فارم پر غیر شرعی امور جیسے عورتوں کی تصاویر ، موسیقی وغیرہ سے پاک جائز مواد پر مشتمل ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرنےکی اگر چہ شرعاً گنجائش ہے۔ تاہم اس طرح کےسوشل میڈیاپلیٹ فارم پرارننگ کے حصول کے لیے چلائے جانے والے اشتہارات میں جائز اور ناجائز دونوں طرح کے مواد موجود ہوتے ہیں، جس کی روک تھام اور جائز حد تک محدود کرنا ایک عام صارف کے اختیار میں نہیں ہوتا، اس لئے اس طرح کے مخلوط امور کو ذریعہ آمدن بنانے سے اجتناب چاہیئے۔
جبکہ ٹک ٹاک ویڈیوزکو V.P.N کے ذریعےکسی دوسرے ملک کی آئی ڈی سے اپلوڈ کرنے میں اگرکوئی قانونی روکاوٹ یادھوکہ دہی وغیرہ موجودنہ ہوتو اس کی بھی گنجائش ہے ۔
کمافی مشکاۃ المصبیح: وعن أبی حرة الرقاشیؒ، عن عمهؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه" رواه البيهقی فی "شعب الإيمان "، والدارقطنی فی "المجتبى" (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1974، المرقم: 2946، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفی سنن الترمذی: عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول: إنّ الغادر ينصب له لواء يوم القيامۃ،(أبواب السیر، باب ما جاء أنّ لكل غادر لواء يوم القيامة، ج:3، ص:196، ط:دار الغرب الاسلامي)-
وفی بدائع الصنائع: ومنها أن يكون العمل المستأجر له مقدور الاستيفاء من العامل بنفسه ولا يحتاج فيه إلى غيره وخرجت المسائل عليه والأول أقرب إلى الصناعة فافهم وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح الخ (کتاب الاجارۃ،ج 4،ص 189، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی تکملۃ فتح الملھم: أما التلفزیون والفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھما بالنظر إلی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ، من الخلاعۃ والمجون، والکشف عن النساء المتبرجات أو العاریات، وما إلی ذلك من أسباب الفسوق، ولکن ھل یتأتی فیھما حکم التصویر بحیث إذا کان التلفزیون أو الفیدیو خالیاً من ھذہ المنکرات بأسرھا، ھل یحرم بالنظر إلی کونہ تصویراً؟ فإن لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ فیہ وقفۃ؛ وذلك لأن الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ أو منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیئ، وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادۃ،أما الصورۃ التی لیس لھا ثبات أو استقرار ولیست منقوشۃ علی شیء بصفۃ دائمۃ، فإنھا بالظل أشبہ منھا بالصورۃ، ویبدو أن الصورۃ التلفزیون والفیدیو لاتستقر علی شیء فی مرحلۃ من المراحل إلخ (ج4، ص 164، ط: مکتبۃ دار العلوم کراتشی)-
وفی الدر المختار: (لاتصح الاجارۃ لعسب التیس) وھو نزوہ علی الاناث (و) لا (لاجل المعاصی مثل الغناء و النوح و الملاھی الخ (باب اجارۃ الفاسدۃ، ج 6، ص 55، ط : ایچ ایم سعید)-