کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسمی میم کا نکاح مسماۃ نون سے بعوض دوتولہ سونا ہواتھا جبکہ نکاح کے بعد دولہے کے بھائی نے نکاح نامہ کے شق نمبر سولہ میں ایک عدد مکان ایک کمرہ والا بھی اس وجہ سے لکھ دیا کہ دولہے کے دیگر بھائیوں کی بیویوں کے لئے بھی ایک کمرہ والا مکان ایک ایک عدد لکھا گیا ہےاب پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ مذکور مکان بھی مہر کا حصہ ہوگا؟اور مسماۃ نون اس مکان کا مطالبہ کرسکتی ہے ؟براہ کرم اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں۔
نوٹ: ایجاب وقبول کے وقت صرف دو تولہ سونا حق مہر مقررکیاگیا تھا۔جبکہ ایک کمرہ والا مکان سائل کے بھائی نے بعد میں لکھا تھا۔اور سائل نےاس اضافہ (مکان )پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی ۔
واضح ہو کہ شرعاً مہر وہی معتبر ہوتا ہے جو ایجاب و قبول کے وقت فریقین کی رضامندی سے متعین کیا گیا ہو۔ لہذاصورت مسئولہ میں اگرواقعۃً عقدنکاح میں ایجاب و قبول کے وقت صرف دو تولہ سونا ہی حقِ مہر مقرر ہوا تھا، اور ایک کمرہ والا مکان بعد میں دولہے کے بھائی نے محض عرف یا برابری کے خیال سے نکاح نامہ کی شق نمبر 16 میں لکھ دیا، جس کی رضامندی سائل سے حاصل نہیں کی گئی تھی تواس صورت میں وہ ایک کمرہ والا مکان مہر کا حصہ نہیں بنے گا،جس کی وجہ سےمسماۃ نون کو شرعاً اس مکان کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔البتہ اگر شوہر اپنی خوشی سے بعد میں اس مکان کو بطور ہبہ (تحفہ) دینا چاہے تو یہ اس کاصوابدیدی اختیارہے جس کی گنجائش ہے، تاہم ایساکرناشرعاًاس پرلازم وضروری نہیں ۔
کما فی الھندیۃ: الزيادة في المهر صحيحة حال قيام النكاح عند علمائنا الثلاثة، كذا في المحيط. فإذا زادها في المهر بعد العقد لزمته الزيادة، كذا في السراج الوهاج ھذا إذا قبلت المرأۃ الزیادۃ سواء کانت من جنس المھر أو لا من زوج أو من ولی کذا فی النھر الفائق الخ (الباب السابع فی المھر، ج: 1، ص: 312، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المحتار: (وما فرض) بتراضيهما أو بفرض قاض مهر المثل (بعد العقد) الخالي عن المهر (أو زيد) على ما سمي فإنها تلزمه بشرط قبولها في المجلس أو قبول ولي الصغيرة ومعرفة قدرها وبقاء الزوجية على الظاهر نهر الخ
وفی رد المحتار تحت: (قوله بشرط قبولها إلخ) أفاد أنها صحيحة ولو بلا شهود أو بعد هبة المهر والإبراء منه وهي من جنس المهر أو من غير جنسه بحر، وسواء كانت من الزوج أو ولي، فقد صرحوا بأن الأب والجد لو زوج ابنه ثم زاد في المهر صح نهر الخ(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:111 ، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا تزوج امرأة على صداق في السر وسمع في العلانية بأكثر من ذلك فالمسألة على وجهين. (الأول) أن يتواضعا في السر على مهر ثم تعاقدا في العلانية بأكثر فإن كان ما تعاقدا عليه في العلانية من جنس ما تواضعا عليه في السر إلا أنه أكثر مما تواضعا عليه في السر فإن اتفقا على المواضعة أو أشهد الرجل عليها أو على وليها أن المهر هو المسمى في السر والزيادة سمعة فالمهر ما تواضعا عليه في السر الخ (الباب السابع فی المھر، ج1، ص: 315، ط: ماجدیہ)۔