اگر نکاح کے وقت قاضی کی طرف سے مہر کا اعلان کیا جائے اور وہ اعلان دلہا اور دلہن دونوں کی موجودگی میں، متعدد گواہوں کے سامنے قبول کیا جائے اور ویڈیو کے ذریعے بھی ریکارڈ ہو، اور بعد میں مہر میں تحریر شدہ رقم کو بدل کر نکاح نامہ میں درج کیا جائے، اور بعد ازاں یہ تحریر شدہ مہر مقامی حکومت کی تحقیقات کے بعد جعلی ثابت ہو جائے، اور قاضی کا اندراج حکومت کی نوٹیفکیشن کے ذریعے منسوخ کر دیا جائے، تو اس صورت میں مہر کے اعتبار سے کون سی رقم درست سمجھی جائے گی؟
کیا وہ زبانی قبول شدہ مہر معتبر ہوگی، یا نکاح نامہ میں جھوٹا درج شدہ مہر؟
سائل کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو کہ بوقت نکاح گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ زبانی طور پر مہر مقرر کیا گیا ہو اور اس کے بعد دولہا دلہن کی باہمی اتفاق رائے کے بغیر نکاح نامہ میں اس مہر کی رقم کو تبدیل کیا گیا ہو تو اس صورت میں ایجاب قبول کے وقت گواہوں کی موجودگی میں طے شدہ حق مہر ہی شرعا معتبر ہوگا۔
کما في الدر المختار: (وما فرض) بتراضيهما أو بفرض قاض مهر المثل (بعد العقد) الخالي عن المهر (أو زيد) على ما سمي فإنها تلزمه بشرط قبولها في المجلس أو قبول ولي الصغيرة (إلى قوله) (وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا، ويرتد بالرد كما في البحر۔اھ (3/111)
و فی الفتاوى الهندية: فإن اتفقا على ما تواضعا في السر وأشهدا أن الزيادة في العلانية سمعة فالمهر هو المذكور عند العقد في السر فأما إذا لم يشهدا أن الزيادة في العلانية سمعة ففي شرح مختصر الطحاوي على قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى أن المهر هو مهر العلانية ويكون هذا زيادة على المهر الأول سواء كان من جنسه أو من خلاف جنسه اھ (1/316)۔