ایک لڑکی اپنے شوہر کی مرضی سے تعلیم کے لیے بیرون ملک گئی، اس دوران دونوں میاں بیوی کا نکاح قائم تھا، اس وقت شوہر کے پاس ملازمت نہیں تھی اور وہ پاکستان میں رہ رہا تھا، اس کے خاوند نے بیوی کی تعلیم کے دوران رہائش (کرایہ 238 یورو ماہانہ ) اور کھانے پینے (تقریباً 80 یورو ماہانہ ) ، فیسوں کے لیے ( تقریباً دو سال کی کل فیس 1250 یورو) اور انشورنس (جو کہ غیر ملکی قوانین کے مطابق لازمی ہے) کے لیے اوسط ( 100 یورو ماہانہ ) کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے بھائیوں سے قرض لیا، یہ اخراجات اکتوبر 2019 سے لے کر فروری 2022 تک لیے، اس دوران اگست 2020 سے فروری 2021 تقریباً 6 ماہ کے عرصہ کے لئے لڑکی بیمار رہی اور یہ عرصہ پاکستان میں اپنے سسرال میں گزارا اور اس 6 ماہ کے عرصہ میں 80 یوروماہانہ لیے اور یونیورسٹی کو فیس وغیرہ ادا کی، فروری 2022 کے بعد لڑکی کی ملازمت ہو گئی اور سسرال والوں سے کوئی پیسہ نہ لیا، سنہ 2023 میں لڑکا بھی بیرون ملک چلا گیا اور ملازمت اختیار کرلی اور اپنے بھائی کے ہاں رہائش اختیار کر لی، لڑکی اپنے میاں سے ملنے گئی، وہاں دونوں میاں بیوی میں جھگڑا ہو گیا، بعد ازاں لڑکا اپنی بیوی سے ملنے گیا لیکن دونوں میں پھر جھگڑا ہو گیا، اس کے بعد لڑکی نے طلاق کا مطالبہ کر دیا، باوجود اصرار کے لڑکے نے طلاق نہ دی، اور نہ ہی کوئی رابطہ کیا، بالا آخر لڑکی نے عدالت سے مارچ 2025 سے خلع لے لیا، اب جبکہ دونوں میں طلاق ہو چکی ہے ، اور سابقہ شوہر اب ملازمت کر رہا ہے،سوال یہ ہے کہ1- لڑکا (سابقہ شوہر ) نان و نفقہ ذمہ دار تھا یا نہیں ؟
2۔ سابقہ شوہر کب تک نان و نفقہ کا ذمہ دار تھا اور نان و نفقہ میں کیا شامل ہے ؟
3۔ اب لڑکی کے ذمہ کیا ہے ؟
4۔ سابقہ شوہر کے ذمہ کیا ہے ؟
5- کیا لڑکے کے بھائی لڑکی سے اخراجات کا مطالبہ کر سکتے ہیں ؟مہربانی سے وضاحت فرما دیں شکریہ ۔فقط۔
واضح ہو کہ دورانِ نکاح ، اسی طرح طلاق کی صورت میں عدت کے اختتام تک عورت اگر شوہر کے گھر پر ہو، یا شوہر کی اجازت سے گھر سے باہر رہے تو ایسی صورت میں عورت نان نفقہ کی حقدار ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں دورانِ نکاح شوہر کی اجازت سے بیوی اگر باہر ملک گئی تھی، تو اس کا نان نفقہ شوہر پر لازم تھا، البتہ تعلیمی اخراجات شوہر پر لازم نہیں تھے، تاہم اگر تعلیمی اخراجات بھی شوہر نے برداشت کرلئے تھے اور ان اخراجات کے قرض ہونے یا واپسی کی صراحت نہیں کی گئی تھی، تو اب شوہر اس سے ان اخراجات کے مطالبہ کا حقدار نہیں، اسی طرح مذکور تمام اخراجات کیلئے چونکہ شوہر نے بھائیوں سے قرضہ لیا تھا، لہٰذا بھائیوں کیلئے اپنی بھابھی سے ان اخراجات کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ وہ اپنے بھائی سے مطالبہ کے حقدار ہیں۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لايملك ذلك فكيف يمكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخر جا المال من ملكها اھ ( ج: 2، ص: 191، م:سہیل اکیڈمی)
وفی بدائع الصنائع: ومنها وجوب النفقة، والسكنى لقوله تعالى {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} [البقرة: 233] ، وقوله تعالى {لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله} [الطلاق: 7] ، وقوله {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6] ، والأمر بالإسكان أمر بالإنفاق الخ (فصل وجوب النفقۃ والسکنی، ج:2۔ ص:332، م:سعید)۔
وفي الدر المختار : (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة اھ (فصل في القرض، ج: 5،ص: 161، م: سعید)۔
وفی الھندیۃ: تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء الی قولہ ولا يصلح للجماع فلا نفقة لها عندنا حتى تصير إلى الحالة التي تطيق الجماع سواء كانت في بيت الزوج او الأب هكذا في المحيط(الباب السابع عشر فی النفقات،ج:1، ص:544، م:ماجدیۃ)