شوہر اور بیوی الگ الگ کماتے ہیں بیوی چاہتی ہے زیادہ رقم دین کے کاموں پر صرف ہو شوہر چاہتے ہیں کہ دنیا پر زیادہ صرف ہو اس صورت میں شوہر بیوی کے پیسے پر کتنا حق جتا سکتا ہے؟
مذکورہ دونوں میاں بیوی جب الگ الگ محنت مزدوری کر کے کماتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک اپنی کمائی کا تنہا مالک ہے، اور وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے اس کو صرف کر سکتا ہے۔ تاہم جب ساری کمائی گھریلو مصارف ہی میں خرچ ہوتی ہے تو دونوں کو چاہیے کہ باہمی مشورے سے خرچ کی ایسی ترتیب بنائیں جس سے گھریلو خرچہ میں بھی تنگی نہ ہو اور دینی امور میں بھی حسب استطاعت حصہ داری ہو سکے، مگر یہ بات واضح ہو کہ گھر کے خرچ اخراجات کا اصل ذمہ دار شوہر ہی ہے نہ کہ بیوی، بلکہ گھریلو اخراجات کے سلسلہ میں بیوی فقط معین و مددگار اور معاون ہی بن سکتی ہے۔ لہذا شخص مذکور کو چاہیے کہ جب اُس کی بیوی بھی کمائی کر کے اس کا ہاتھ بٹاتی ہے تو وہ دینی امور میں خرچ کرنے میں بخل سے کام نہ لے۔ واللہ اعلم بالصواب