السلام علیکم، محترم جناب ! میرے والد مرحوم کا چارسال پہلےانتقال ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے اپنی زندگی کے دوران میری محترمہ والدہ کو مہر ادا نہیں کیا۔ ہمارا موجودہ گھر میرے مرحوم والد کے نام پر ہے ، میں ان کا بڑا بیٹا محمد۔۔۔ہوں، میں اپنے والد کی طرف سے مہر ادا کرنا چاہتا ہوں ۔ نکاح نامہ میں مہردوتولہ سونا لکھاہواہے اس کی رقم 5000 کا ذکر ہے, اپریل1984 میں نکاح ہوا، مجھے موجودہ سال کے مطابق کتنی رقم ادا کرنی چاہیے ؟ کیا یہ ٹھیک ہے ؟ ایسا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟
صورت مسئولہ اگرسائل کے والدمرحوم نے اپنی زوجہ (سائلہ کی والدہ )کاحق مہرادانہ کیاہوتوتقسیم میراث سے قبل نکاح نامہ میں درج ان کاحق مہراداکرناتمام ورثاء پرشرعالازم ہے ،چنانچہ اگرسائل کی والدہ کاحق مہر دوتولہ سونے کی صورت میں لکھاگیاہواوربطورتوضیح اس کے ساتھ سونےکی اس وقت کی قیمت درج ہوتو اس صورت میں حق مہرکی ادائیگی اس درج شدہ قیمت کی بجائے دوتولہ سونایاآج کی مارکیٹ ویلیوکے مطابق اس کی رقم ان کے ترکہ سے اداکرنالازم ہے ۔
کمافی الدر المختار :(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (الی قولہ) (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) الخ(کتاب الفرائض،ج6ص759ط:سعید)۔