آمدنی و مصارف

ویڈیو ایڈیٹنگ میں میوزک شامل کرنے کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
91112
| تاریخ :
2026-01-19
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

ویڈیو ایڈیٹنگ میں میوزک شامل کرنے کی آمدن کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میں پیشے کے اعتبار سے ایک ویڈیو ایڈیٹر ہوں، لوگ مجھ سے اپنی ویڈیوز ایڈیٹ کرواتے ہیں۔ ویڈیو ایڈیٹنگ کے دوران بعض اوقات پسِ منظر میں آواز (sound/music) بھی شامل کی جاتی ہے۔ عام طور پر صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ
1۔ ویڈیو کے شروع میں Intro کے وقت بیک گراؤنڈ میں میوزک ہوتا ہے۔
2۔ ویڈیو کے آخر میں Ending/Outro میں میوزک شامل کیا جاتا ہے۔
3۔کبھی کبھار ویڈیو کے درمیان میں بھی مختصر طور پر میوزک استعمال ہوتا ہے۔
4۔ میوزک پوری ویڈیو میں میں مسلسل نہیں ہوتا، بلکہ چند مخصوص جگہوں پر ہوتا ہے۔
اکثر اوقات کلائنٹ خود یہ ہدایت دیتا ہے کہ ویڈیو میں میوزک شامل کیا جائے اور بعض صورتوں میں کلائنٹ خود میوزک فراہم کرتا ہےاور کہتا ہے کہ ان میوزکس کو ویڈیو میں استعمال کیا جائےیا پھر وہ کہتا ہے کہ انٹرنیٹ سے کوئی مناسب میوزک ڈاؤن لوڈ کرکے ویڈیو میں لگا دیا جائے۔ میرا اصل کام ویڈیو کی ایڈیٹنگ ہے، میں خود میوزک بنانے یا فروخت کرنے کا کام نہیں کرتا، بلکہ صرف کلائنٹ کی ہدایت کے مطابق ویڈیو ایڈیٹ کرتا ہوں۔ براہِ کرام درج ذیل باتوں کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
1۔کیا اس طرح ویڈیو ایڈیٹنگ کا کام کرنا شرعاً جائز ہے؟
2۔کیا اس کام سے حاصل ہونے والی آمدنی(کمائی) حلال ہے یا نہیں؟
3۔اگر میوزک کلائنٹ کی طرف سے دیا جائے تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟
4۔ اگر میوزک میری طرف سے ڈاؤن لوڈ کرکے لگایا جائے تو اس شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ جزاکم اللہ خیر

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ جوآوازیں خود بخود یا چرند،پرندکی بولیوں اورہوا وغیرہ کے ذریعے پیدا ہوں،ان کے سننےیاکسی جائزامورپرمشتمل ویڈوزکے بیک پلےمیں شامل کرنےمیں شرعاً کوئی حرج نہیں ،تاہم وہ آوازیں جو انسان کے فعل سے پیدا ہوں، ان کےحکم ِشرعی میں فقہی اعتبارسے درج ذیل تفصیل ہے۔
اگر انسان کے فعل سے پیدا ہونے والی آواز غیر موزون (یعنی جس میں خاص ناپ تول، تال یا باقاعدہ لے نہ ہو)اور غیر مطرب (یعنی جو دل کو لہو و طرب کی طرف نہ کھینچے، نہ سرور و کیف پیدا کرے)ہو، جیسے لوہار کی ضرب کی آواز، بڑھئی کی آری کی آواز، یا محض ٹکنیکی ساؤنڈ ایفیکٹس جو آلاتِ موسیقی سے پیدا نہ ہورہا ہو، تو ایسی آوازوں کا سننا اور کسی جائزامورپرمشتمل ویڈیوکی تشہیرکے دوران بیک گراؤنڈ پلے کے طورپراستعمال کرناشرعاً جائز ہے۔لیکن اگر آواز موزون (یعنی باقاعدہ لے، تال اور ناپ تول کے ساتھ) اور مطرب (یعنی سننے والے میں لذت، سرور اور لہوکی کیفیت پیدا کرنے والی) ہو، اور آلات کے ذریعے انسان کے فعل سے پیدا کی جائے، تو فقہی اصطلاح میں اسےموسیقی کہا جاتاہے۔جس کاسننا،سنانااورکسی ویڈیومیں بیک گراؤنڈپلے کے طورپراستعمال کرناسب امورناجائزاورحرام ہیں ،جس سے خودکوبچانابہرصورت واجب ہے۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر ویڈیو ایڈیٹنگ میں صرف غیر موزون اور غیر مطرب آوازیں (مثلاً انسانی گفتگو، قدرتی آوازیں، مشینی یاتکنیکی آوازیں، سادہ ساؤنڈ ایفیکٹس) استعمال کیے جائیں، تو اس کام کی شرعاًگنجائش ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے۔لیکن اگر ویڈیو ایڈیٹنگ میں موزون و مطرب موسیقی (یعنی باقاعدہ لے اور سرور پیدا کرنے والی دھنیں)شامل کی جائیں، خواہ وہ ویڈیو کے شروع، آخر یا درمیان میں ہوں، اور خواہ موسیقی کلائنٹ کی طرف سے دی گئی ہو یا ایڈیٹر خود شامل کرے، تو یہ موسیقی کے پھیلاؤ اورتشہیرمیں تعاون کے زمرے میں شامل ہوگا، جو شرعاً جائزنہیں، اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی ناجائز اورحرام ہوگی۔
اس لئے سائل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پیشہ کو شرعی حدود میں رکھے،اورویڈیوزکی ایڈیٹنگ میں موسیقی جیسے حرام کام میں معاونت سے اجتناب کرے، اور کلائنٹس کو جائز متبادل آوازوں پر اکتفا کرنے کی طرف راغب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن المجید:(إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَھمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُون)۔ الآیۃ۔ (سورۃ النور، آیت نمبر: 19)۔
وفی أحکام القرآن للجصاص: تحت (قوله تعالى: إن الذين يحبون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا). أبان الله بھذه الآية وجوب حسن الاعتقاد في المؤمنين ومحبة الخير والصلاح لھم، فأخبر فيھا بوعيد من أحب إظھار الفاحشة والقذف والقول القبيح للمؤمنين وجعل ذلك من الكبائر التي يستحق عليھا العقاب، وذلك يدل على وجوب سلامة القلب للمؤمنين كوجوب كف الجوارح والقول عما يضر بھم۔ وروى عبد الله بن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (المؤمن من سلم المسلمون من لسانه ويده والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه)، وقال: (ليس بمؤمن من لا يأمن جاره بوائقه)۔ وحدثنا عبد الباقي قال: حدثنا الحسن بن العباس الرازي قال: حدثنا سھل بن عثمان قال: حدثنا زياد بن عبد الله عن ليث عن طلحة عن خيثمة عن عبد الله بن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (من سره أن يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتأته منيته وهو يشھد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ويحب أن يأتي إلى الناس ما يحب أن يأتوا إليه)۔ وحدثنا عبد الباقي قال: حدثنا إبراهيم بن هاشم قال: حدثنا هدبة قال: حدثنا همام قال: حدثنا قتادة عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (لا يؤمن العبد حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه من الخير) إلخ۔ (سورۃ النور، ج 3، ص 399، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:(النوع الثالث:استماع ‌أصوات ‌الجمادات:
25 - إذا انبعثت أصوات الجمادات من تلقاء نفسھا أو بفعل الريح فلا قائل بتحريم استماع هذه الأصوات۔ أما إذا انبعثت بفعل الإنسان، فإما أن تكون غير موزونة ولا مطربة، كصوت طرق الحداد على الحديد، وصوت منشار النجار ونحو ذلك، ولا قائل بتحريم استماع صوت من هذه الأصوات۔ وإما أن ينبعث الصوت من الآلات بفعل الإنسان موزونا مطربا، وهو ما يسمى بالموسيقى۔ فتفصيل القول فيه كما يلي: أولا - استماع الموسيقى:
26 - إن ما حل تعاطيه (أي فعله) من الموسيقى والغناء حل الاستماع إليه، وما حرم تعاطيه منھما حرم الاستماع إليه، لأن تحريم الموسيقى أو الغناء ليس لذاته، ولكن لأنه أداة للإسماع، ويدل على هذا قول الغزالي في معرض حديثه عن شعر الخنا، والھجو، ونحو ذلك: فسماع ذلك حرام بألحان وبغير ألحان، والمستمع شريك للقائل۔ (2) وقول ابن عابدين: وكره كل لھو واستماعه)۔
‌‌أ: الاستماع لضرب الدف ونحوه من الآلات القرعية:
27 - اتفق الفقھاء على حل الضرب بالدف والاستماع إليه، على تفصيل في ذلك، هل هذه الإباحة هي في العرس وغيره، أم هي في العرس دون غيره؟ وهل يشترط في ذلك أن يكون الدف خاليا من الجلاجل أم لا يشترط ذلك؟ وستجد ذلك التفصيل في مصطلح (معازف) (وسماع)۔ واستدلوا على ذلك بما رواه محمد بن حاطب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فصل ما بين الحلال والحرام الدف والصوت في النكاح۔
وبما روت عائشة رضي الله عنھا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أعلنوا هذا النكاح، واضربوا عليه بالغربال (2)۔ وما روت الربيع بنت معوذ قالت: دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم غداة بني علي، فجلس على فراشي، وجويريات يضربن بالدف يندبن من قتل من آبائي يوم بدر، حتى قالت إحداهن: وفينا نبي يعلم ما في غد۔
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تقولي هكذا وقولي كما كنت تقولين إلخ۔ (أنواع الاستماع،ج4، ص 95، ط: دار السلاسل)۔
و فی الدر المختار : وفي السراج: ودلت المسألة أن الملاهي كلھا حرام ويدخل عليھم بلا إذنھم لإنكار المنكر، قال ابن مسعود: صوت اللھو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: (استماع الملاهي معصية والجلوس عليھا فسق والتلذذ بھا كفر)، أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر، فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لايسمع لما روي: (أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه) وأشعار العرب لو فيھا ذكر الفسق تكره اهـ أو لتغليظ الذنب كما في الاختيار أو للاستحلال كما في النھايةالخ
وفی الشامیۃ: تحت(قوله ودلت المسألة إلخ) لأن محمداً أطلق اسم اللعب والغناء فاللعب وهو اللھو حرام بالنص، قال عليه الصلاة والسلام: (لھو المؤمن باطل إلا في ثلاث: تأديبه فرسه) وفي رواية: (ملاعبته بفرسه ورميه عن قوسه وملاعبته مع أهله) كفاية. وكذا قول الإمام: ابتليت دليل على أنه حرام إتقاني، وفيه كلام لابن الكمال فيه فراجعه متأملاً (قوله: ويدخل عليھم إلخ) لأنھم أسقطوا حرمتھم بفعلھم المنكر فجاز هتكھا كما للشھود أن ينظروا إلى عورة الزاني حيث هتك حرمة نفسه وتمامه في المنح (قوله: قال ابن مسعود إلخ) رواه في السنن مرفوعاً إلى النبي صلى الله عليه وسلم بلفظ: (إن الغناء ينبت النفاق في القلب)، كما في غاية البيان. وقيل: إن تغنى ليستفيد نظم القوافي ويصير فصيح اللسان لا بأس به، وقيل: إن تغنى وحده لنفسه لدفع الوحشة لا بأس به وبه أخذ السرخسيو وذكر شيخ الإسلام أن كل ذلك مكروه عند علمائنا. واحتج بقوله تعالى:{ومن الناس من يشتري لهو الحديث} [لقمان: 6] الآية جاء في التفسير: أن المراد الغناء وحمل ما وقع من الصحابة على إنشاء الشعر المباح الذي فيه الحكم والمواعظ، فإن لفظ الغناء كما يطلق على المعروف يطلق على غيره كما في الحديث: (من لم يتغن بالقرآن فليس منا) وتمامه في النھاية وغيرها (الی قوله) والحاصل: أنه لا رخصة في السماع في زماننا لأن الجنيد - رحمه الله - تعالى تاب عن السماع في زمانه اهـ وانظر ما في الفتاوى الخيرية الخ۔ (کتاب الحظر والاباحۃ ، ج: 6 ، ص: 348 ، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91112کی تصدیق کریں
0     275
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • صدقہ کی چیز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات