السلام علیکم! ہمارے شہر میں رواج ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکی والے بہت زیادہ حق مہر لکھواتے ہیں جو کہ شوہر کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے ۔ مقصد اس کا یہ ہوتا ہے کہ بیوی کو تحفظ حاصل ہو اور شوہر آسانی سے بیوی کو طلاق نہ دے سکے ۔ اگر لڑکی والوں کی شرائط کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ رشتہ دینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں ۔ شوہر ساری زندگی اپنی بیوی کا مقروض رہتا ہے اور بیوی کا حق مہر ادا نہیں کر سکتا ۔ حدیث میں حق مہر ادا نہ کرنے والے شوہر کے لئے بہت وعیدیں آئی ہیں اور حق مہر ادا نہ کرنے والے شوہر کو زانی قرار دیا گیا ہے ۔ کیا شریعت کی رو سے اتنا زیادہ حق مہر لکھوانا جائز ہے جو شوہر کی استطاعت سے باہر ہو اور شوہر ساری زندگی اسے ادا نہ کر سکتا ہو ؟؟؟ اگر ایسا شوہر حق مہر ادا نہ کر سکے تو کیا اس پر وعیدیں لاگو ہوں گی؟ وضاحت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نے مہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں کی، بلکہ اسے فریقین کی باہمی رضامندی اور ان کی مالی حیثیت اور خاندانی حسب و نسب پر چھوڑا ہے ، البتہ عند الاحناف مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے ، ( جو کہ موجودہ حساب سے دو تولہ پونے آٹھ ماشہ چاندی بنتی ہے ) اس سے کم مہر مقرر کرنا درست نہیں ، لہذا دس درھم سے کم حق مہر طے کرنا درست نہیں، اسی طرح ایک عام آدمی کی استطاعت سے زیادہ حق مہر کا مطالبہ کرکے اس کے مقرر کرنے پر لڑکے کو مجبور کرنا بھی درست نہیں، بلکہ فریقین کی باہمی رضامندی اور ایک دوسرے کی مالی حیثیت اور خاندانی شرافت کے مطابق مہر کی کوئی بھی مناسب مقدار طےکرنا چاہیئے ، تاہم برادری میں مہر کی بہت زیادہ مقدار عام ہونے کی وجہ سے نکاحوں میں مشکلات یا مہر کی بہت کم مقدار کے رائج ہونے کی وجہ سے طلاقوں میں اضافے وغیرہ دیگر وجوہات کی بنا پر اگر برادری میں ایسے متوسط مہر کی مقدار مقرر کرنے کی ترغیب دی جائے ،کہ جس میں فریقین کی رعایت ہو اس طور پر کہ عورت کو تحفظ بھی حاصل ہو اور مرد پر بہت زیادہ بوجھ بھی نہ پڑےتو اس کی گنجائش ہے اوراسی کا اہتمام چاہیئے۔
کمافي مرقاة المفاتيح عن أبي سلمة قال: سالت عائشة كم كان صداق النبي الله قالت: كانت صداقة لازواجه ثنتا عشرة اوقية ونش قالت اتدرى مالنش؟ قلت: لا قلت: نصف اوقية فتلك خمسمائة درهم رواه مسلم اهـ (4467)
وفيها ايضاً: عن عمر ابن الخطاب قال: الا لاتغالو صدقة النساء فنها لوكانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان اولاكم بها نبي الله ﷺ ما علمت رسول الله الله نكح شيا من نسائه و لا انكح شيا من بنته على اكثر من اثنتي عشرة اھ( 4468)
وفی مشكاة المصابيح: "عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: ألا لا تغالوا صدقة النساء فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عشرة أوقية. رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي".(کتاب النکاح، باب الصداق، الفصل الثاني، ج : 2، ص : 285، مط : رحمانیة)
وفی الدر المختار: (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر (باب المھر،ج:3،ص:102، دار الفكر - بيروت)