اگر حق مہر مہر فاطمی طئے کیا ہواہو اور بعد میں دینے کا فیصلہ ہو تو جب ادائیگی ہوگی تو اس وقت کے ریٹ کے حساب سے ہوگی جب نکاح ہوا تھا یا جب ادائیگی ہوگی اس وقت کے حساب سے ہوگا ؟
مہر فاطمی میں اصل معیار چاندی ہے، اس لیے اگر نکاح کے وقت محض مہر فاطمی کا تعین ہوا ہو ،اس وقت مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت کا تعین نہ ہوا ہو تو بعد میں ادائیگی مہر کے وقت چاندی کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی لازم ہوگی۔
كمافي مرقاة المفاتيح: ثم ذكر السيد الجمال الدين المحدث في روضة الأحباب: إن صداق فاطمة رضي الله عنها كان أربعمائة مثقال فضة، وكذا ذكره صاحب المواهب ولفظه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعلي إن الله عز وجل أمرني أن أزوجك فاطمة على أربعمائة مثقال فضة والجمع أن عشرة دراهم سبعة مثاقيل مع عدم اعتبار الكسور۔الخ(کتاب النکاح،باب الصداق،ج:6،ص:360،ط:حقانیۃ)
وفی بدائع الصنائع: وإن وصف فلم يتقرر مهرا في الذمة بنفسه بل الزوج مخير في تسليمه وتسليم قيمته في إحدى الروايتين على ما نذكر إن شاء الله تعالى وإنما يتقرر مهرا بالتسليم فتعتبر قيمته يوم التسليم(کتاب النکاح،ج:2،ص:277،ط:سعید)۔