سوال:
محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرے والد نے دو شادیاں کی ہیں۔ اپنی پہلی بیوی جوکہ میری والدہ اور سات (7) بچوں کے ساتھ وہ ظالمانہ سلوک کر رہے ہیں۔ بچوں کا خرچہ بند کر دیا گیا ہے، اور جب خرچہ بند ہوا، چار بچے 13 سال سے کم عمر تھے۔
دو بچوں کی شادی والد کی دو بھانجیوں سے ہوئی، جو خود بھی گھر والوں کے ساتھ جھگڑالو اور لڑائی جھگڑا کرنے والے رویہ رکھتی ہیں۔ والد اپنی بھانجیاں جو کہ میری بھابیاں جوکہ میری والدہ کے ساتھ بدتمیزی اور بد سلوکی کرہیں ہیں اور ہم بھائیوں کا اگر ہمارے پھوپھو کے بچوں کے ساتھ کوئی لڑائی جھگڑر ہوں تو ان کی وجہ سے ( حق کرتے ہیں ) اور بعض اوقات بلا وجہ بھی مار پیٹ، بہنیں بھی والدہ اور ہم پر مارپیٹئ اور لالچ کا الزام، اور سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی خدمت جیسے کپڑے، جوتے کرنے پر انہیں جائیداد کی لالچ پر طعنہ دیتے رہتے ہیں۔
بیوی اور بچے تقریباً 13 سال سے کنارہ کش ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔ والد جائیداد میں حصہ دینے اور خرچ دینے سے انکار کر رہے ہیں، حالانکہ مالی حالات بہتر ہیں (حج اور عمرے کر رہے ہیں)۔
سوالات شرعی:
1-کیا والد کا بیوی اور بچوں کے ساتھ یہ سلوک شرعاً جائز ہے؟
2- نابالغ بچوں کا خرچہ بند کرنا، مار پیٹ کرنا اور ہر خدمت پر طعنہ دینا شرعاً کس درجے کا گناہ ہے؟
3- بچوں کو جائیداد سے محروم رکھنا اور ان کے حق میں ناراضگی ظاہر کرنا شرعاً جائز ہے یا ظلم؟
4- اگر والد جائیداد نہ دیں تو اولاد اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
5- شریعت اسلام مظلوم بیوی اور بچوں کو ایسے حالات میں کیا حق اور راستہ دیتی ہے؟
6- کیا بھانجوں کی ہر جائز ناجائز بات جو ہمرےی عزت نفس اور غیرت کے مترادف ہو یہ نا ماننے کی وجہ سے حق کرے یا بدعائیں دیں اس پر کیا حکم ہے ؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
والسلام
سائل: اکبر خان
رابطہ نمبر: 0340-2277722
سوال میں ذکرکردہ بیان اگر واقعہً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو ایسی صورت میں والد کا پہلی بیوی کے واجب حقوق اور نابالغ اولاد کے نان نفقہ ، پرورش اور دیگر شرعی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرنا،انہیں بے سہارا چھوڑدینا اور ان کے ساتھ ظلم و حق تلفی کرنا شرعاً ناجائز اور سخت گناہ تھا،جس پر سائل کے والد کو بصدق دل توبہ اور استغفار لازم ہے،البتہ بالغ اولاد کا نفقہ چونکہ والد پر لازم نہیں اس لئے سائل اور اس کے بالغ بھائیوں کو والد سے مطالبہ کا حق حاصل نہیں،البتہ سائل کی بہنوں کی کفالت کی ذمہ داری ان کی شادی تک بدستور اس کے والد پر لازم ہے، جبکہ مجموعی طور پر ان کا اولاد کے ساتھ مذکور رویہ نامناسب ہے، جس پر انہیں نظر ثانی کرنی چاہئے، نیز والد کی زندگی میں اولاد کو اس کی میراث یا جائیداد کا مطالبہ کرنے کاحق حاصل نہیں ،کیونکہ وراثت مورث کی وفات کے بعد ہی ثابت ہوتی ہے، البتہ والد کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ عدل ، حسن سلوک اور صلہ رحمی کا معاملہ کرے،اسی طرح اولاد پر بھی والدین کا ادب واحترام لازم ہے،تاہم کسی رشتہ دار، خواہ وہ بھانجہ ہی کیوں نہ ہو، کی ایسی بات ماننا جو شریعت ، عزت نفس اورغیرت کے خلاف ہو اور اس بناء پر ان کی ناحق ناراضی یا بددعاؤں کا طرزعمل انتہائی نامناسب ہے، جس سے سائل کے والد کو احتراز چاہئے۔
کما فی مشکوٰۃ المصابیح "عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان".(کتاب الآداب،باب البر والصلۃ،الفصل الثالث،ج:3،ص:1382،ط:المکتب الاسلامی)
و فی سنن ابی داؤد: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كانت له امرأتان، فمال إلى أحدهما جاء يوم القيامة وشقه مائل." (باب فی القسم فی النساء،ج:3،ص:469،ط:دارالرسالۃ)
و فی مشکاۃ المصابیح: عن أنس قال: قال رسول اللَّه صلى اللَّه عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع اللَّه ميراثه من الجنَّة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه. (باب الوصایا،ج:1،ص:266،ط:قدیمی)