کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسئلہ کے حوالے سے کہ الحمد اللہ ہماری مسجد کے متصل، مسجد کے زیرِ نگرانی ایک مدرسہ ہے،جس میں طلباء وطالبات کو تعلیم دی جاتی ہے،جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
بنین میں تقریباً 150 طلباءہیں،جس میں دو کلاسیں حفظ کی ،اور پانچ کلاس ناظرہ /قاعدہ کی ہیں ،، حفظ کل وقتی ، جبکہ ناظرہ کی کلاسیں جز وقتی ہیں ،جس کی مد میں حفظ کے بچوں سے ہزار روپے ماہانہ ،جبکہ ناظرہ /قاعدہ کے بچوں سے300/250/ /200روپے ماہانہ ہیں، اور اس میں کچھ بچے ایسے بھی ہیں،جو فیس نہیں دیتے ،حفظ کی کلاس مسجد کے اندر لگائی جاتی ہے ۔
بنات میں بھی قاعدہ /ناظرہ کی پانچ درسگاہیں ہیں، جن کی فیس بھی300/250/200 ہے، اور بہت سے بچے فیس نہیں بھی دیتے ،اس کے علاوہ دراسات کا شعبہ بھی ہے ،جہاں دو سالہ کورس کرایا جا رہا تھا، جو اس سال مکمل ہو گیا،اور آئندہ کا لائحہ عمل طے نہیں کیا، اس کورس کی کوئی فیس نہیں لی جاتی، اور ایک کلاس بالغان کی بھی ہے، جس کی بھی فیس لی جاتی ہے ، اس کے علاوہ اسکول کے بچوں کو بھی پڑھایا جاتا ہے، دوسری جماعت تک، اس کی مد میں فی بچہ 1200 روپے فیس لی جاتی ہے، کل 26 بچوں میں سے دو بچے فیس نہیں دیتے ،اس طرح کل آمدنی مدرسہ واسکول کی ملا کر ایک لاکھ بن جاتی ہے، اور مخیر حضرات کے تعاون سے مزید 25000 ہزار ہو جاتے ہیں، یعنی مدرسہ کی کل آمدنی 125000 ہے ،جبکہ ٹوٹل اخراجات بمع تنخواہوں کے5000 32 خرچ ہوتے ہیں، پچھلی کمیٹی زکوۃ /فطرہ /چرم قربانی سے مدرسے کو چلا رہی تھی ،اور آمدنی کے ساتھ اس رقم سے ادائیگی کر رہی تھی، کیا اس مدرسے کو اسی ترتیب سے چلایا جائے ؟براہِ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں ۔
کیا مذکورہ صورت میں زکوۃ/ فطرہ /چرم قربانی سے حاصل شدہ رقم ذکر کر دہ اخراجات (اساتذہ کی تنخوا ہ، مدرسہ اسکول کے چھوٹے موٹے کام ،فوٹو کاپی وغیرہ، اور نگران استاد کے کھانے کا انتظام) میں استعمال کرنا جائز ہے ؟جبکہ بچوں سے الگ سے باقاعدہ فیس بھی لی جاتی ہے، اور عموماً بچے غریب گھرانے کے ہیں، لیکن کچھ کھانے پیتے گھرانے کے بھی ہیں۔(2):اگر زکوۃ، فطرہ، چرم کی رقم کا استعمال ذکر کردہ صورت میں جائز نہیں ،تو اس کی جائز صورت کیا ہو سکتی ہے ؟کیونکہ آمدنی کم ہے، اور اخراجات زیادہ ہیں، ان رقوم کے استعمال کی کیا صورت اور گنجائش ممکن ہے ؟
(3):نیزاب تک مذکورہ رقوم جو ہم نے تنخواہ وغیرہ میں استعمال کئے،اس کا کیا حکم ہے ؟جبکہ ادارہ میں اب تک توکیل کا نظام قائم نہیں ہوا ۔ واضح ہو کہ زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ ( جیسے صدقہ فطر، فدیہ، کفارہ ،چرم قربانی ، وغیرہ ) کی ادائیگی کے درست ہونے کے لئے تملیک (مستحقِ زکوۃ شخص کو مالک بنا کردینا)ضروری ہے،محض کسی دینی، فلاحی یا انتظامی کام میں یہ رقم خرچ کر نے سے شرعاً زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی درست نہ ہوگی ،اور نہ ہی اس طرح زکوۃ اداکرنے والوں کی زکوۃ ادا ہوگی ۔
لہذا صورت ِ مسؤلہ میں مدارسِ دینیہ کی عمومی ضروریات، جیسے تعمیر، مرمت،اساتذہ کی تنخواہیں، بجلی، پانی،مدرسہ اسکول کے چھوٹے موٹے کام ،فوٹو کاپی وغیرہ) یا دیگر انتظامی اخراجات میں زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم براہِ راست خرچ کرنا درست نہیں، اوراس بنا ءپر جن لوگوں نے زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ کی رقم تملیک شرعی کے بغیر براہِ راست مدرسہ کی ضروریات پوری کرنے میں خرچ کی ہے، تو اس کی وجہ سے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ شرعاً ادا نہیں ہوئے، بلکہ وہ بدستور مالکان کے ذمہ باقی ہیں،جن کی ادائیگی ان کے ذمہ لازم ہوگی ،البتہ مدرسہ کے منتظمین اس رقم کو مصرف میں خرچ نہ کرنے کی وجہ سے ضامن ہوں گے،اور مالکان ان سے ان رقوم کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں ،جبکہ اس مدرسہ میں اخراجات کے لئے اگر متبادل انتظام نہ ہو،اور منتظمین اس میں زکوۃ اور صدقات واجبہ کی رقم استعمال کرنا چاہتے ہوں،تو اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ مدرسہ میں پڑھنے والے وہ طلبہ جو خود بالغ اور مستحقِ زکوٰۃ ہوں، یاخود تو نابالغ ہوں، مگر ان کے والدین مستحقِ زکوٰۃ ہوں،تو ان مستحق لوگوں کو زکوۃ اورصدقاتِ واجبہ کی رقم مالک بنا کر دی جائے،اور اس کے بعد ان سے ان کی رضامندی سے فیس وغیرہ کی مد میں وصول کرکے مدرسہ کے اخراجات میں استعمال کی جائے ۔
کما فی الدر المختار: (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) أي معتقه، وهذا معنى قول الكنز تمليك المال: أي المعهود إخراجه شرعا (مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه) فلا يدفع لأصله وفرعه (لله تعالى)الخ(کتاب الزکوٰۃ/ج2/ص258ط:دار الفكر-بيروت)۔
وفی الدر المختار: وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت اھ
وفی حاشية ابن عابدين: "وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلايملك الدفع إلى غيره، كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره، فتأمل اھ (کتاب الزکوٰۃ/ج2/ص/269دار الفكر-بيروت)۔
وفي مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:( ولا تدفع ) الزكاة ( لبناء مسجد ) ؛ لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا بناء القناطير وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا يتملك فيه ، وإن أريد الصرف إلى هذه الوجوه صرف إلى فقير ثم يأمر بالصرف إليها فيثاب المزكي والفقير اھ(ج:2/ص:258)۔
وفی الفتاوی الہندیہ:إذا شك وتحرى فوقع في أكبر رأيه أنه محل الصدقة فدفع إليه أو سأل منه فدفع أو رآه في صف الفقراء فدفع فإن ظهر أنه محل الصدقة جاز بالإجماع وكذا إن لم يظهر حاله عنده وأما إذا ظهر أنه غني أو هاشمي أو كافر أو مولى الهاشمي أو الوالدان أو المولودون أو الزوج أو الزوجة فإنه يجوز وتسقط عنه الزكاة في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى ولو ظهر أنه عبده أو مدبره أو أم ولده أو مكاتبه فإنه لا يجوز عليه أن يعيدها بالإجماع وكذا المستسعى عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى هكذا في شرح الطحاوي وإذا دفعها ولم يخطر بباله أنه مصرف أم لا فهو على الجواز إلا إذا تبين أنه غير مصرف وإذا دفعها إليه وهو شاك ولم يتحر أو تحرى ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد إلا إذا تبين أنه مصرف هكذا في التبيين اھ (ج:1/ص:189/190 الناشر دار الفكر)۔