میں نے پاکستان میں اپنی سابقہ بیوی سے باہمی رضامندی اور مکمل باقاعدہ معاہدے کے تحت علیحدگی اختیار کی تھی، یہ علیحدگی دونوں خاندانوں کی رضا مندی اور باہمی تفہیم سے کمپیوٹرائزڈ اور قابلِ تصدیق اسٹامپ پیپرپر تحریری صورت میں انجام پائی، ہمارے معاہدے کے مطابق میری سابقہ بیوی نے بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کی اور آئندہ کسی اضافی دعوے سے دستبردار ہو گئی، جبکہ میں آج بھی اپنے بچوں کے تمام مالی اخراجات اور ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کر رہا ہوں، میری مرحومہ والدہ کی آخری خواہش یہ تھی کہ میں نادرا میں اپنی ازدواجی حیثیت تبدیل نہ کرواؤں تاکہ میرے بچوں کو طلاق کے سرکاری ریکارڈ کی وجہ سے ممکنہ سماجی دباؤ یا منفی اثرات کا سامنا نہ کرنا پڑے، اب میں دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن میری ممکنہ شریکِ حیات اس اسٹامپ پیپر قانونی اعتبار سے کو مکمل اور کافی نہیں سمجھتی، ان کا مؤقف یہ ہے کہ اگرچہ یہ دستاویز اصلی، قابلِ تصدیق اور باقاعدہ معاہدہ ہے لیکن چونکہ اس کی سرکاری رجسٹریشن یا نادرا میں اپ ڈیٹ موجود نہیں، اس لیے مستقبل میں قانونی یا اور دیگرپیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس صورتحال میں میں اسلامی رہنمائی چاہتا ہوں کہ میں اپنی مرحومہ والدہ کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے نئی شادی کے اسلامی تقاضے کیسے پورے کروں؟ اگر میں والدہ کی اس وصیت پر عمل نہ کروں تو اسلام میں اس کا کیا حکم یا گناہ ہوگا؟ کیا ایسی وصیت پوری نہ کرنے پر کوئی کفارہ لازم ہوتا ہے، جیسے روزہ توڑنے پر فدیہ یا مسکینوں کو کھانا کھلانا وغیرہ؟ کیا مجھے اس رشتے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے، کیونکہ جو خاتون میری والدہ کی آخری خواہش کا احترام نہیں کر رہی، وہ شادی کے بعد میرے دیگر معاملات میں بھی مسائل پیدا کر سکتی ہیں؟ اور اگر میں نادرا میں اپنی ازدواجی حیثیت تبدیل کرواتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی شرعی گناہ، حد یا سزا لاگو ہوگی؟
واضح ہو کہ نکاح کی درستگی کے لیے اسے قانونی طور پر رجسٹرڈ کرنا اگرچہ شرعاً لازم اور ضروری نہیں، لیکن اس کے ساتھ بہت سے قانونی مسائل جڑے ہوئے ہیں، اس لیے سائل کی بننے والی دوسری بیوی کا اس نکاح کو باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ کرنے کا مطالبہ کرنا اس کا قانونی حق ہے۔ نیز جب سائل نے پہلی بیوی کو باقاعدہ طلاق دے کر اپنی زندگی سے آزاد کر دیا ہے تو اب قانونی حیثیت میں اسے اپنی بیوی ظاہر کرنا شرعاً جھوٹ اور غلط بیانی ہونے کے علاوہ دونوں کے لیے قانونی مشکلات کا سبب بھی بن سکتی ہے، اس لیے سائل کو قانونی طور پر بھی یہ رشتہ ختم کرنا چاہیے تاکہ دوسری بیوی کے خدشات کا ازالہ ہونے کے ساتھ ساتھ ممکنہ پریشانیوں سے بچا جا سکے، اور اس سلسلے میں والدہ کی وصیت اور خواہش کا لحاظ رکھنا لازم و ضروری نہیں۔
کما فی الدر المختار(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر(تزوجت)الخ (كتاب النكاح،ج:٣،ص:٩،ط:سعيد)
وفیہ ایضاََ:(وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما(و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف الخ(كتابالنكاح،ج:٣،ص:٢١،ط:سعيد)
وفی الشامیۃ:تحت(قوله: وينعقد) قال في شرح الوقاية: العقد ربط أجزاء التصرف أي الإيجاب والقبول شرعا لكن هنا أريد بالعقد الحاصل بالمصدر، وهو الارتباط لكن النكاح الإيجاب والقبول مع ذلك الارتباط، إنما قلنا هذا؛ لأن الشرع يعتبر الإيجاب والقبول أركان عقد النكاح لا أمورا خارجية كالشرائط، وقد ذكرت في شرح التنقيح في فصل النهي أن الشرع يحكم بأن الإيجاب والقبول الموجودين حسا يرتبطان ارتباطا حكميا، فيحصل معنى شرعي يكون ملك المشتري أثرا له فذلك المعنى هو البيع، فالمراد بذلك المعنى المجموع المركب من الإيجاب والقبول مع ذلك الارتباط للشيء لا أن البيع مجرد ذلك المعنى الشرعي والإيجاب والقبول آلة له كما توهم البعض؛ لأن كونهما أركانا ينافي ذلك. اهـ. أي ينافي كونهما آلة، وأشار الشارح إلى ذلك حيث جعل الباء للملابسة كما في بنيت البيت بالحجر لا للاستعانة، كما في كتبت بالقلم اھ(كتاب النكاح،ج:٣،ص:،ط:سعيد)