السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔میرے دو سوالات ہیں جو آپس میں متعلق ہیں:کیا صدقہ کی رقم مسجد کی مدد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، جیسے لِلّٰہ (اللہ کے نام پر دی گئی رقم)، یا مسجد کے لیے صرف لِلّٰہ کی رقم ہی استعمال کی جا سکتی ہے؟کیا لِلّٰہ اور صدقہ کی رقم کو ملا کر مسجد کے اخراجات پورے کیے جا سکتے ہیں، مثلاً بلوں کی ادائیگی یا اگر مسجد پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی؟میں یہ سوال اس لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ صدقہ کی رقم مسجد پر خرچ کرنا جائز ہے۔براہِ کرم ایسا جواب مرحمت فرمائیں جو ممکن ہو تو تمام مکاتبِ فکر کی آراء کو شامل کرتا ہو۔جزاکم اللہ خیراً۔
اگر"صدقہ " سے مراد عام نفلی صدقہ ، خیرات یا لِلہ رقم ہو ، تو اسے مسجد کے دیگر فنڈز کے ساتھ ملا کر مسجد کے اخراجات اور قرض وغیرہ میں استعمال کرنا جائز ہے۔ البتہ اگر"صدقہ" سے مراد صدقہ واجبہ یعنی زکوٰۃ وغیرہ ہو، تو چونکہ اس میں تملیک (مالک بنانا) لازم ہے، اور مسجد کے مصارف پر خرچ کرنے میں تملیک نہیں پائی جاتی ، لہٰذا زکوٰۃ کی رقم براہ راست مسجد کی تعمیر، بلوں یا قرض کی ادائیگی میں صرف کرنا شرعاً جائز نہیں اور اس سے زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی، اس لیے اسے مسجد کی ضروریا ت میں صرف کرنےسے احتراز لازم ہے۔
کما في الدر المختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره اھ (2/ 344)
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي اھ (2/ 344)
وفي الدر المختار: (وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) و في كل حال (إلا في) جواز (الدفع إلى الذمي) وعدم سقوطها بهلاك المال وقد مر اھ (2/ 368)
وفی بدائع الصنائع: وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبةاھ(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:47، ناشر: سعید)