السلام علیکم ،
طلاق کے بعد اگر بیوی اپنی مرضی سے تحریری طور پر لکھ کر دے کہ میں حق مہر سے دستبردار ہوتی ہوں ،تو کیا اس سے حق مہر معاف ہو جاتا ہے؟ میں نے سنا تھا کہ طلاق کے بعد حق مہر قرض بن جاتا ہے، اگر وہ طلاق سے پہلے ادا نہ کیا گیا ہواور بیوی حق مہر کو معاف کرنے کے لیے قرض معاف کرنے کے الفاظ استعمال کرے گی، اس میں راہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ حق مہر کا تعلق نکاح سے ہے، چنانچہ نکاح منعقد ہوتے ہی شوہر پر حق مہر لازم ہو جاتا ہے ،اور عدم ادائیگی تک وہ اس پر دین رہتا ہے، اور بیوی ہر وقت شوہر سے اس کے مطالبہ کا حق رکھتی ہے اگر مہر معجل ہو، لہذا اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق کی نوبت پیش آجائے تب بھی بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ اس سے فوری طور پر اپنے حق مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے، لیکن اگر بیوی اس کو معاف کرنا چاہے تو اس کا بھی اختیار رکھتی ہے، جبکہ معافی کے لیے حق مہر یا قرض کی معافی میں سے جو الفاظ بھی استعمال کرے اس سے وہ معاف ہو جائے گا۔
كما في بدائع الصنائع: فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة: … منها: الإبراء عن كل المهر قبل الدخول وبعده إذا كان المهر دينا لأن الإبراء إسقاط، والإسقاط ممن هو من أهل الإسقاط في محل قابل للسقوط يوجب السقوط. اهـ [فصل بيان ما يسقط به كل المهر، ج: 2 ص: 295 ط: سعيد)]
وفي الدر المختار: (وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا، ويرتد بالرد كما في البحر. اهـ [مطلب في حط المهر والإبراء منه، ج:٣ ص:١١٣ ط: سعيد)]