السلام علیکم! محترم مفتی صاحب !عرض یہ ہے کہ ہم کل پانچ بھائی ہیں۔ اور ہمارے والدین حیات ہیں۔ 1996 میں میرے والد صاحب سعودی عرب میں حج پر گئے تھے اور سعودیہ سے میری والدہ کیلئے چار عدد سونے کی جوڑیاں خرید کر لائے تھے اور میری والدہ کو گفٹ کر دی تھی
زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ سب سے بڑا بیٹا ہونے کیوجہ سے 2009 میں میری شادی کر دی گئی ۔ سونے کے زیورات بنانے کا مسئلہ تھا تو میں (بڑے بیٹے) نے 2009 میں 72000 روپے نقد والد صاحب کو ادا کیے۔ لڑکی کی ماں کا مطالبہ یہ تھا چونکہ میری ہر ایک بیٹی کو فی کس 90000 روپے کا حق مہر ادا کیا گیا ہے اور انصاف کے تحت میری اس بیٹی کو بھی ۔ 90000 کا حق مہر ادا کیا جائے گا۔ اب نقطہ یہ ہے کہ یہ چار عدد سونے کی چوڑیاں جو والد صاحب اپنی شریک حیات کیلئے لائے تھے ۔ 72000 روپے کے علاوہ باقی رقم کی کمی پوری کرنے کیلئے چاروں سونے کی چوڑیاں والد ۔ والدہ اور دوسرے نمبر کے میرے بھائی کی رضا مندی سے میری بیوی کو حق مہر میں خوشی سے ادا کردی گئیں تھیں ۔ اب دوسرے نمبر والا بھائی آج مورخہ 2026 میں یہ کہہ رہا ہے کہ وہ چار چوڑیاں واپس والدہ کو دی جائیں ، جبکہ بوقت نکاح حق مہر کی ادائیگی سے قبل واپسی کی کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی ۔جبکہ والد صاحب اس مسئلہ پر خاموش ہیں ، اب معلوم یہ کرنا ہے کیا یہ چار چوڑیاں جو ماں باپ اور دوسرے نمبر کے بھائی کی رضا مندی سے میری بیوی کو حق مہر میں ادا کر دی گئیں تھیں، کیا یہ چوڑیاں ماں باپ کو واپس کرنے کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟ آپ علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ کیا یہ چار چوڑیاں میں (بڑا بھائی) بالخصوص دوسرے نمبر کے بھائی کے کہنے پر واپس والدہ کو کر سکتا ہوں یا نہیں؟ کیونکہ دوسرے نمبر کا بھائی اس سونے کو ترکہ میں لانا چاہتا ہے ۔ اگر آپ علماء کرام ان چار چوڑیوں کو والد کو واپس کرنے کا حکم شریعت کے تحت دیتے ہیں ۔ تو سونے کی قیمت مورخہ 2009 یا 2026 کے مطابق ادا کی جائے گی؟ کیونکہ سونا 14 سال پہلے فروخت کر چکا ہوں
صورت مسئولہ میں اگر مذکور ہ چار عدد سونے کی چوڑیاں والد صاحب نے 1996ء میں خرید کر والدہ کو بطور ہدیہ دے دی تھی تو وہ والدہ کی ملکیت میں آگئی تھیں ،چنانچہ اگر2009ء میں والدہ نے اپنی رضامندی سے وہ چوڑیاں سائل کی بیوی کو اپنی طرف سے بطور حق مہر دے دی تھیں اور دیتے وقت واپسی یا قرض کی صراحت نہیں کی گئی تھی تو وہ سونا سائل کی بیوی کی ملکیت بن چکا تھا، لہٰذا اب دوسرے بھائی کایہ مطالبہ کرنا کہ وہ چوڑیاں والدہ کو واپس کی جائیں یا انہیں آئندہ ترکہ میں شامل کیا جائے ، شرعاًدرست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها (ج:5،ص690، کتاب الھبۃ،ناشر:بیروت)
و في الفتاوى الهندية: الرجوع في الهبة مكروه في الأحوال كلها ويصح كذا في التتارخانية اھ (الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ، ج:4،ص:385،ناشر: بیروت)
وفيھا أیضاً: ومنها الزوجية سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا كذا في الاختيار شرح المختار وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة (ج: 4، ص: 386 )