بخدمت جناب دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی
السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ
گزارش ہے کہ ہماری مسجد کو ایک آدمی نے سولر سسٹم عطیہ کردیا ہے مسجد کے مصرف کے لئے ،اب مسجد کے کمیٹی کا صدر نے اس سے اپنے گھر کے لئے بھی لائن لی ہوئی ہے اس کے بقول مجھے اس کی اجازت عطیہ کرنے والے نے دی ہے، جبکہ اس کے پاس اس بات کا کوئی گواہ موجود نہیں ہے ۔آپ رہنمائی فرمائیں کہ اس کا یہ فعل شریعت کی رو سے درست ہے یا نہیں ؟ اور اگر یہ فعل درست نہیں تو اس کو صدر کے عہدے پر بر قرار رکھنا درست ہے یا نہیں ؟
العارض :حنیف زادہ خان
صورت مسؤلہ میں واقف نے سولر سسٹم وقف کرتے وقت اگر واقعۃ کمیٹی کے صدر کو اس سے گھر کے لئے بھی لائن لینے کی اجازت دی ہو تو ایسی صورت میں اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ،تاہم کمیٹی کے صدر کے پاس چونکہ اس دعویٰ کا کوئی گواہ موجود نہیں ،لہذا واقف اگر زندہ ہو تو اس سے مل کر صراحت معلوم کی جاسکتی ہے ۔
كما فى الدرالمختار: (فإذا تم ولزم لا يملّك ولا يملك ولا يعار ولَا يرهنُ)(ج:٤،ص:٣٥٢)
و فى الهداية: فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث.
وفى الهندية: متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان.(ج:٢،ص:٤٦٢)
وفيه ايضا: فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة.(ج:٢،ص:٤٦٣)
وفى الشامية: إذا كان ناظرا على اوقاف متعددة وظهرت خيانته في بعضها أفتى المفتي ابو السُعود بانهُ يعْزل من الكلِ.(ج:٤،ص:٣٨٠)