ہماری بستی کی مسجد میں ہر گھر سے ماہانہ 200 روپے چندہ لیا جاتا ہے اور رمضان کے موقع پر 1500 روپے چندہ بھی وصول کیا جاتا ہے۔اس کے باوجود عید کے دن مسجد کے ذمہ داران عوام سے 20 یا 30 روپے کی رسید پھاڑ کر چندہ وصول کرتے ہیں۔جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون سا چندہ ہے تو وہ صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ "یہ مسجد کا چندہ ہے" اور اس کی کوئی واضح وجہ نہیں بتاتے۔لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ:شریعت کی نظر میں اس طرح بغیر وضاحت کے عید کے دن چندہ لینا کیسا ہے؟جب پہلے ہی ماہانہ چندہ اور رمضان کا چندہ لیا جا رہا ہو تو کیا اس کے بعد بھی اس طرح چندہ لینا درست ہے؟کیا مسجد انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ چندے کی وجہ اور مصرف عوام کو واضح طور پر بتائے؟براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں اس کا حل بتائیں۔
اگر ماہانہ یا رمضان المبارک میں کیا جانے والا چندہ مسجد کی ضروریات کے لیے کافی نہ ہو اور مزید چندہ کی اپیل کی ضرورت محسوس ہو تو عید وغیرہ کے موقع پر بھی مسجد کی ضروریات کی خاطر چندہ کی درخواست کی جاسکتی ہے، تاہم اس بابت کسی پر جبر کرنا شرعا درست نہ ہوگا، بلکہ طیب نفس کا خیال رکھنا شرعاً لازم ہے،جبکہ مسجد انتظامیہ مسجد کے اخراجات کی تفصیل چندہ دہندہ گان کو بتانے کی شرعاً پابند نہیں، لیکن بدگمانی اور تہمت وغیرہ سے بچنے کیلیے آمدن واخراجات مسجد میں کسی بورڈ پر لکھنا یا آویزاں کرنا مناسب ہے، بلکہ اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
كما في مسند أحمد: عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه (إلى قوله) ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.إلخ (ج: 34، ص: 299، الرقم: 20695، ط: مؤسسة الرسالة)
وفي درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: كل يتصرف في ملكه كيفما شاء.اهـ (الباب العاشر في الشركات، الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، ج: 3، ص: 201، ط: دار الجيل)
وفي الهندية: مسجد له مستغلات وأوقاف أراد المتولي أن يشتري من غلة الوقف للمسجد دهنا أو حصيرا أو حشيشا أو آجرا أو جصا لفرش المسجد أو حصى قالوا: إن وسع الواقف ذلك للقيم وقال: تفعل ما ترى من مصلحة المسجد كان له أن يشتري للمسجد ما شاء وإن لم يوسع ولكنه وقف لبناء المسجد وعمارة المسجد ليس للقيم أن يشتري ما ذكرنا وإن لم يعرف شرط الواقف في ذلك ينظر هذا القيم إلى من كان قبله، فإن كانوا يشترون من أوقاف المسجد الدهن والحصير والحشيش والآجر وما ذكرنا كان للقيم أن يفعل وإلا فلا، كذا في فتاوى قاضي خان.اهـ (ج: 2، ص: 461، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار: «(قوله: يراعى شرط الواقف في إجارته) أي وغيرها لما سيأتي في الفروع من أن شرط الواقف كنص الشارح كما سيأتي بيانه إلا في مسائل تقدمت.اهـ (فصل إجارة الواقف، ج: 4، ص: 400، ط: إيج إيم سعيد)