میری شادی 2002 میں ہوئی تھی ، میرے شوہر شروع سے ہی بہت غصے والے ہیں، میرے تین بچے ہیں، ایک کی عمر 19، دوسرے بچے کی عمر 23 ، جبکہ بیٹی کی عمر 15 سال ہے ، میرے میاں کا رویہ ہمیشہ مجھ سے سرد رہا ہے، آپس میں ازدواجی تعلقات تو ہیں، مگر میرے میاں کبھی مجھ سے خوش نہیں ہوئے، گھر کے مالی حالات کبھی بھی بہت اچھے نہیں رہے ، میاں نے مختلف کام کیے ، پر خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ، اپنی نند کے کہنے پر میں نے بھی ایک اسکول میں ایک ٹیچر کے طور پر جاب شروع کی اور آہستہ آہستہ میں آگے بڑھتی گئی، اور آج میں بحیثیت پرنسپل ایک اسکول میں تعینات ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ میرے میاں کو دو مہینے سے ایک سائیکلوجیکل مسئلہ ہو گیا ہے ، ان کو اپنی جوانی کے ساری محرومیاں یاد آتی رہتی ہیں جو ان کے والدین سے متعلق ہیں، ان کے بھائیوں سے متعلق ہیں یا میرے بھائی کے متعلق ہیں یا میری شادی سے متعلق ہیں اور وہ دن بھر اس کا غصہ مجھ پر نکالتے ہیں، اس دوران میرے شوہر یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ پھر سے 25 سال کے نوجوان ہیں، وہ مجھ سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ نئے شادی شدہ جوڑے کی طرح رویہ اختیار کروں، اور وہ دن میں کئی مرتبہ ازدواجی تعلق قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر کو واقعی ایسا نفسیاتی عارضہ لاحق ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے مزاج، سوچ اور جنسی خواہش میں غیر معمولی تبدیلی آ گئی ہو، اوروہ سائلہ سے اس کی استطاعت و قدرت سے بڑھ کرجسمانی تعلق قائم کرنے کامطالبہ کرتا ہو، توسائلہ پر اپنی قدرت و استطاعت سے بڑھ کر اس کا مطالبہ پورا کرنا شرعاً لازم نہیں، بلکہ سائلہ کے شوہر کو حسنِ معاشرت اور اعتدال کاراستہ اختیارکرناچاہیے ، چنانچہ سائلہ کوچاہیے کہ وہ شوہر کے جائز حقوق کی ادائیگی اپنی استطاعت کے مطابق کرتی ر ہے، اس کی غیر معمولی کیفیت کی وجہ سے ہروقت اس کا مطالبہ پورانہ کرپانے کی وجہ سے وہ شرعاًگناہ گارنہ ہوگی ۔
سائلہ کوچاہیے کہ خاندان کے سمجھ دار افراد کی مدد سے اپنے شوہر کو علاج پر آمادہ کرے، اس کے ساتھ صبر، حکمت اور حسنِ اخلاق سے پیش آئے، اور اللہ تعالیٰ سے اس کی صحت و عافیت کی دعا کرتی رہے۔
قال اللہ تعالی: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (سورۃ النساء ایۃ 19)۔
وفی أحکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى وعاشروهن بالمعروف أمر للأزواج بعشرة نسائهم بالمعروف ومن المعروف أن يوفيها حقها من المهر والنفقة والقسم وترك أذاها بالكلام الغليظ والإعراض عنها والميل إلى غيرها وترك العبوس والقطوب في وجهها بغير ذنب جرى مجرى ذلك الخ (3/47)۔