السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ،
مفتیان کرام ہمارے محلے کے مسجد کی بجلی سے بجلی کا کنکش لیا گیا ہے، قریب گلیوں کیلئے تاکہ رات کو گلیاں روشن ہو اور مسجد سے کچھ فاصلے پر دو کمرے ہے وہاں حجرہ ٹائپ بنا ہے، رات کو لوگ وہاں بیٹھ کر کیا یہ بجلی انکے لئے استعمال کرنا کیسا ہے؟ مسجد کے امام صاحب اس پر بہت غصہ اظہار کرتا ہے، اس پر شرعی حکم کیا ہے ؟
واضح ہو کہ مسجد کے وقف شدہ مال اور اشیاء کو مسجد کے مفاد میں ہی استعمال کرنا ضروری ہے، مسجد کے علاوہ دیگر عوامی مفاد کے لیے اس کا استعمال جائز نہیں، لہذا مسجد کی بجلی کا بل اگر مسجد کے لیے جمع کیے جانے والے مشتركہ چندہ سے دیا جاتا ہو، تو اىسی صورت میں مسجد کی بجلی سے باہر قریبی گلیوں یا کسی حجرہ وغیرہ کے لیے کنکشن دینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ مسجد کی کمیٹی پر اسے فی الفور ختم کرنا لازم ہے، البتہ اگر مسجد کی بجلی کا بل علاقہ کے چند معلوم مخیر حضرات ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہوں اور ان کی طرف سے اس اضافی بجلی کی خرچ پر کوئی اعتراض نہ ہو تو اس کی اجازت ہوگی، ورنہ نہیں۔
كما في الفتاوى الهندية: ولا يحمل الرجل سراج المسجد إلى بيته ويحمل من بيته إلى المسجد. كذا في الخلاصة ولا بأس بأن يترك سراج المسجد في المسجد إلى ثلث الليل ولا يترك أكثر من ذلك إلا إذا شرط الواقف ذلك أو كان ذلك معتادا في ذلك الموضع. كذا في فتاوى قاضي خان اهـ [كتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها وفيه فصلان، الفصل الأول فيما يفسدها، ج:1 ص:110 ط: دار الفكر، بيروت)]
وفي البحر الرائق: وفي الإسعاف وليس لمتولي المسجد أن يحمل سراج المسجد إلى بيته ولا بأس بأن يترك سراج المسجد فيه من المغرب إلى وقت العشاء ولا يجوز أن يترك فيه كل الليل إلا في موضع جرت العادة فيه بذلك كمسجد بيت المقدس ومسجد النبي صلى الله عليه وسلم والمسجد الحرام أو شرط الواقف تركه فيه كل الليل كما جرت العادة به في زماننا اهـ [كتاب الوقف، شروط الواقفين، كان إلى المسجد مدخل من دار موقوفة، ج:5 ص:270 ط: دار الكتاب الإسلامي)]