میں ایک بہت پریشان کن اور الجھن والی صورتحال سے گزر رہی ہوں اور مجھے واقعی سمجھ نہیں آ رہا کہ صحیح قدم کیا ہونا چاہیے۔
میں ایک ڈاکٹر ہوں، اور یہ مسئلہ میرے سسر سے متعلق ہے۔ شروع میں انہوں نے اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں مجھ سے پرسنل اور اناپروپریئیٹ سوالات پوچھنے شروع کیے، یہ کہہ کر کہ میں ڈاکٹر ہوں اس لیے بہتر ایڈوائس دے سکتی ہوں۔ مجھے بہت اَن کمفرٹیبل فیل ہوا لیکن پھر بھی میں نے رسپیکٹ کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کی۔ تاہم جب انہوں نے سیم ٹائپ کے سوالات ریپیٹ کیے تو میں نے کلئیرلی کہہ دیا کہ وہ کسی اور ڈاکٹر سے پوچھ لیں، انہوں نے مجھے بولا کے میری ساس انکے ساتھ سیکس نہیں کررہی ہے کیوں کے انکا آپریشن ہوا ہے ۴ مہینے ہوگئے ہے اور انکے سارے دوست تو باہر جاکر ۵۰۰۰ میں کرلیتے ہیں
پھر میں نے یہ بات اپنے ہسبنڈ کو بھی بتا دی۔ میرے ہسبنڈ نے کہا کہ اگر وہ اس ٹائپ کی باتین دوبارہ کریں تو کہ دینا مجھ سے ایسی بات نہ کریں اور انہیں اوویڈ کریں ۰
اس کے بعد تقریباً ایک مہینہ سب نارمل رہا، تو میں نے سمجھا کہ وہ بات سمجھ گئے ہیں اور دوبارہ ایسا نہیں کریں گے۔
لیکن ریسنٹلی صورتحال بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ تقریباً 3 دن پہلے انہوں نے مجھ سے اکاؤنٹ نمبر مانگا کیوں کے وہ پہلے مانگتے تھے تو میں نے دیدیا۰ لیکن پیسے نہیں آئے تھے میں نے اپنے شوہر کو بتایا لیکن اس دن پیسے نہیں آئیں تھے پھر دوسرے دن انھوں نے مجھ سے بولا پیسے آگئے میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا یہ بات میری ساس اور شوہر کو نہیں بتانا۰ لیکن میں نے اپنے ہسبنڈ کو یہ بات بتادی تھی،
دوسرے دن انھوں نے دوبارہ اناپروپریئیٹ کنورسیشنز شروع کر دیں اور ایسی سیکشول ٹائپ کی باتیں کی جنہیں یہاں لکھنا بھی میرے لیے ڈِفیکلٹ ہے۔ انہوں نے مجھے گال پر کس کیا اور کہا کہ میں ان کی بیٹی جیسی ہوں۔ اس مومنٹ میں میں فریز ہوگئی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔
انھوں نے مجھ سے اور بھی عجیب سی باتیں کی ہے کے میں تمہاری acne کو پپیاں کر کے ٹھیک کردوگا اورtiktok پے تو سب آپس میں کررہے ہوتے ہیں جیسے باپ بیٹی، بہو سسر جس پر میں نے کہا کہ یہ gunnah ہے انہونے کہا ویسے بھی اتنے گناہ کرتے ہیں۰
میری ڈسکمفورٹ کے باوجود وہ نہیں رکے۔ میں نے کلئیرلی کہا کہ میں اس میں کمفرٹیبل نہیں ہوں اور وہ ایسی باتیں نہ کریں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اچانک مجھے ٹائٹلی ہگ کیا، مجھے پکڑا، “فرینڈ” کہا، دوبارہ گال پر کس کیا اور میری چیسٹ کو دو مرتبہ ٹچ کیا۔ یہ کوئی نارمل یا ایکسیڈنٹل ٹچ نہیں تھا۔ میں نے انہیں جب دو تین بار کہا کہ مجھے چھوڑ دیں، تب جا کر وہ پیچھے ہٹے۔ اس کے بعد میں کمپلیٹلی فریز اور ڈسٹرب ہو گئی اور مجھے سمجھ نہیں آیا کہ امیڈیٹلی کیا ری ایکٹ کروں۔ جب میرے ہسبنڈ اٹھے تو میں نے انہیں سب کچھ بتایا اور اپنی مدر اِن لا کو بھی انفارم کیا۔
میرے ہسبنڈ نے اس پر ری ایکٹ کیا اور اپنے فادر سے بات کی، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ مجھے بیٹی سمجھتے ہیں، یہ سب اَن اِنٹینشنل تھا، اور انہیں پیار شو کرنے کا رائٹ ہے۔ میری مدر اِن لا نے انہیں گھر سے نکلنے کو بھی کہا، لیکن بعد میں وہ واپس آ گئے اور قرآن پر قسم بھی اٹھائی۔
میرے ہسبنڈ اور مدر اِن لا دونوں نے مجھ سے معافی مانگی، لیکن اب جو سولوشن سجیسٹ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ میں اپنے فادر اِن لا کو کمپلیٹلی اوائڈ کروں اور اسی گھر میں رہوں۔ آنیسٹلی یہ مجھے سیف نہیں لگتا اور پریکٹیکل بھی نہیں لگتا۔ ہمارا اوپر ایک روم بنا ہیں لیکن اسمیں میرے شوہر کو خوف آتا ہیں
میں نے اپنے ہسبنڈ سے سیپریٹ پورشن یا سیپریٹ گھر کی ریکویسٹ کی ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی مدر کو ان کی ریسنٹ سرجری کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی اپنے فادر کو گھر سے نکال سکتے ہیں۔ وہ صرف یہی چاہتے ہیں کہ میں “ایڈجسٹ” کروں اور ان سے بالکل انٹریکشن نہ رکھوں۔
اس وقت میں اپنے پیرنٹس کے گھر ہوں کیونکہ مجھے وہاں واپس جانا اَن سیف لگتا ہے۔
انہوں نے مجھ سے ایموشنلی یہ بھی کہا ہے کہ میں یہ بات کسی سے شیئر نہ کروں، لیکن میں بہت کنفیوزڈ، اَ
ن سیف اور مینٹلی ڈسٹرب فیل کر رہی ہوں۔
بنیادی سوالات : کیا اس صورتِ حال میں میرے لیے سسرال کے اس گھر میں واپس جانا شرعاً جائز ہے جہاں مجھے غیر محفوظ ہونے اور ہراسانی کا خوف ہو؟
“avoid کرنے” کا مشورہ دے اور الگ رہائش کا انتظام نہ کرے، تو بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟
کیا میری شرعی ذمہ داری ہے کیا اسلام مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں ایسے گھر میں نہ رہوں جہاں میری عزت اور حفاظت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو؟
اور اگر میں واپس گئی اور اس طرح دوبارہ ہوا تو وو مجھ پے الزام نہیں لگا دیں کیوں کے میرے شوہر نائٹ جاب کرتے ہے
براہِ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں واضح رہنمائی فرمائیں۔
مہربانی کر کے سینسئر اور آنیسٹ ایڈوائس دیں۔
جزاک اللہ خیر۔
واضح ہو کہ کوئی شخص کسی عورت کو بلاحائل شہوت سےچھو لے ،یا حائل تو ہو مگر اس کے ہاتھ لگانے اور چھونے سے ان دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کے جسم کی حرارت محسوس ہونے لگے،تو اس سے ان دونوں کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہو کر اس عورت کے اصول وفروع اس مرد پر اور مرد کے اصول وفروع اس عورت پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حرام ہوجاتے ہیں ،لہذا اولاً تو سائلہ کو چاہیے کہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی قریبی دارالافتاء سے رجوع کرکے نکاح کی شرعی حیثیت اور حرمت مصاہرت کا حکم معلوم کر لیں ،اور اگر ان کا نکاح برقرار رہے تو سوال میں درج تفصیل اگر واقعہً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کیلئے جائز ہے کہ وہ خاوند کے اس گھر کو چھوڑ کر فی الحال عارضی طور پر اپنے میکہ میں رہائش اختیار کرے اور اپنے شوہر سے علیحدہ گھر یا اسی گھر کے اندر ایسے الگ پورشن کا مطالبہ کرے کہ جو مکمل محفوظ ہو اور اس کیلئے راستہ بھی الگ ہو اور اس میں سائل کے والد سمیت دیگر غیر محارم کا آنا جانا نہ ہو،جبکہ سائلہ کے خاوند کو بھی چاہیے کہ سوال میں مذکور کیفیت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سائلہ کیلئے ایسی الگ رہائش کا بندوبست کرے کہ جس میں وہ اپنے والدین کی عیادت اور حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھ سکیں اور اپنی بیوی کو بھی وقت دے سکے۔
کما فی الدرالمختار: (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قلبه أو زيادته وفي الجوهرة: لا يشترط في النظر لفرج تحريك آلته به يفتى هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي ابن كمال وغيره.(كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج: 3،ص: 33،مط: دارالفکر)
و فی ردالمحتار: (تحت قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.(كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج: 3،ص: 32،مط: دارالفکر)
و فیہ ایضاً: (تحت قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. اهـ،وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليهااھ.(كتاب النكاح،ج: 3،ص: 37،مط: دار الفکر)
وفي الفتاوى الهندية: ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت،اھ(تاب النكاح،ج: 1،ص: 275،مط: دارالفکر)