کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک عورت کا انتقال ہوگیا اور مرحومہ کی اولاد میں لڑکے لڑکیاں دونوں موجود ہیں ، مرحومہ کے ایک بیٹے کا انتقال مرحومہ سے پہلے ہوگیا تھا جو صاحب ِاولاد تھا ، مرحومہ نے اپنے انتقال سے پہلے اپنے پوتوں (مرحوم بیٹے کی اولاد)کے لیے مرحوم بیٹے کے حصہ کے بقدر مال کی وصیت کی ، اب مرحومہ کے بقیہ بیٹوں کا کہنا ہے کہ اس وصیت کا کوئی اعتبار نہیں ، اور اپنی بہنوں (مرحومہ کی بیٹیوں) سے کہا کہ اگر تم ان بچوں کو دینا چاہو تو اپنے حصے سے دیدو، ہم نہیں دینگے، اب پوچھنا یہ ہے کہ مرحومہ کی اپنے پوتوں کے لیے کی گئی وصیت درست ہوگی یا نہیں؟ براہِ کرم حکم ِشرعی سے آگاہ فرمائیں ۔
صورت ِمسئولہ میں مرحومہ کے پوتے چونکہ اس کی میراث میں وارث نہیں بنتے، اس لیے ان کے حق میں کی گئی وصیت شرعاً درست ہے، جو مرحومہ کے ذاتی مال کے ایک تہائی ترکہ میں ورثاء کی اجازت و مرضی کے بغیر بھی نافذ ہوگی، اور اس سے زائد ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی ، لہذا مرحومہ کے بیٹوں کا وصیت کو بالکلیہ رد کرنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ، بلکہ مرحومہ کے بیٹوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں تنگ دلی سے کام نہ لیں ، بلکہ مرحومہ کی نیک خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کے یتیم پوتوں کے ساتھ حسن ِسلوک اور ایثار کا معاملہ کریں ، یہی یقیناً ان کے حق میں باعث برکت و اجر ثواب ہے۔
كما في الدر المختار: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) يعني يعتبر كونه وارثه أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية على العكس إقرار المريض للوارث اھ(باب الوصایا، ج: ٦، ص: ٦٥٠، مط: سعيد)
وفي الهندية: ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية اھ( كتاب الوصايا ، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها ج٦، ص: ٩٠، مط: ماجدية)
وفي الهداية: ومن أوصى لأجنبي ولوارثه فللأجنبي نصف الوصية وتبطل وصية الوارث" لأنه أوصى بما يملك الإيصاء به وبما لا يملك فصح في الأول وبطل في الثاني اھ(باب الوصیة بثلث المال، ج: ٤، ص: ٥٢٢، مط: دار أحياء التراث العربي)