ایک شخص نماز اور قرآن سے غافل ہے، غلط تعلقات میں مبتلا ہے اور بیوی کی بھی نہیں سنتا ، اسلام میں ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے اور اسے درست راستے پر لانے کا کیا طریقہ ہے؟
واضح ہو کہ نماز اور دیگر فرائض دینیہ کی ادائیگی ہر مسلمان پر لازم ہے، اور ان سے غفلت برتنا سخت گناہ ہے، اسی طرح ناجائز تعلقات میں مبتلا ہونا بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن پر شریعت میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا سوال میں مذکور شخص کا یہ طرزعمل شرعاً نا جائز اور گناہ پر مبنی ہے جس پر توبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے اس طرح کی کوتا ہی سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔ جبکہ ایسے شخص کی اصلاح کے لیے اسے نرمی اور حکمت کے ساتھ غلط دوستوں کی صحبت سے الگ کیا جائے ، نماز کی اہمیت اور آخرت کی جواب دہی کا احساس دلایا جائے، نیک اور دیندار لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے، گھر میں دینی ماحول پیدا کیا جائے، اس کے لیے کثرت سے ہدایت کی دعا کی جائے، امید ہے کہ وہ راہ راست پر آجائے ۔
کما فی مستدرک الحاکم : ألا لا يخلون رجل بامرأة فإن الشيطان ثالثهما ۔۔۔(ج1/ص 155)