ایک شخص کی دو بیویاں ہیں جن میں سے ایک سے اولاد نہیں ہے اور دوسری سے اولاد ہے۔ تو جب وقت برابر تقسیم کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو اس وقت کہتے ہیں کہ میں برابر وقت دوں گا جس کی وجہ سے پہلی بیوی جس کی اولاد نہیں ہے وہ بالکل تنہا ہو کر رہ گئی ہے ،دن میں بھی اکیلی ہوتی ہے رات میں بھی ایک رات اکیلی ہوتی ہے۔ لیکن جب خرچہ دینے کا وقت آتا ہے تو اس وقت کہا جاتا ہے کہ بچوں والی کو اگر 10 روپے دوں گا تو جو بے اولاد ہے اسے ایک روپیہ دوں گا کیا یہ انصاف ہے؟
واضح رہے کہ شریعتِ مُطہَّرہ نے ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل( یعنی برابری) لازم قرار دی ہے، جبکہ عدل نہ کرنے کی صورت میں سخت قسم کی وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن عدل و برابری کی ہر معاملے میں الگ الگ تفصیلات ہیں ۔چنانچہ وقت دینے اور باری مقرر کرنے میں تفصیل یہ ہے کہ دن کے وقت میں برابری لازم نہیں، لہذا اگر شوہر ایک بیوی کے پاس دن کا زیادہ تروقت گزارتا ہے تو دوسری بیوی کے پاس بھی تھوڑی دیر جا کر حال احوال لے لیا کرے یہ کافی ہے اور لازم بھی ۔کلی طور پر جانا ترک کردینا بھی عدل کے خلاف ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ شب گزاری میں مکمل برابری لازم ہے اگر ایک کے پاس ایک رات گزارتا ہے تو دوسری بیوی کے پاس بھی مکمل رات (یعنی غروب آفتاب سے طلوع فجر تک گزارنا لازم ہوگا) اسی طرح دو دو یا تین تین راتوں کی ترتیب بنائی ہو تو دونوں بیویوں کو برابر برابر راتوں کی باری دینا شرعاً لازم ہوگا ۔پھر خرچے کے اعتبار سے بھی عدل یعنی برابری لازم ہے۔ اس لئے صورتِ مسئولہ میں خرچہ میں برابری کی صورت یہ ہوگی کہ دونوں بیویوں کے لئے اولاً الگ سے برابر کا خرچہ مقرر کیا جائے ، اس کے بعد بچوں والی بیوی کو بچوں کے خرچے کی مد میں حسبِ ضرورت مقدار مقرر کرکے اس کے حوالہ کرلیا کریں۔
کما فی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي (باب القسم الفصل الثانی ج:2 ص:965 ط: المکتب الاسلامی بیروت)۔
و فی الدر المختار: (ويقيم عند كل واحدة منهن يوماً وليلةً) لكن إنما تلزمه التسوية في الليل، حتى لو جاء للأولى بعد الغروب وللثانية بعد العشاء فقد ترك القسم، ولا يجامعها في غير نوبتها، وكذا لايدخل عليها إلا لعيادتها ولو اشتد، ففي الجوهرة: لا بأس أن يقيم عندها حتى تشفي أو تموت، انتهى، يعني إذا لم يكن عندها من يؤنسها الخ
و فی الشامیۃ تحت (قوله: لكن إلخ) قال في الفتح: لانعلم خلافاً في أن العدل الواجب في البيتوتة والتأنيس في اليوم والليلة، وليس المراد أن يضبط زمان النهار، فبقدر ما عاشر فيه إحداهما يعاشر الأخرى، بل ذلك في البيتوتة، وأما النهار ففي الجملة اهـ يعني لو مكث عند واحدة أكثر النهار كفاه أن يمكث عند الثانية ولو أقل منه بخلافه في الليل، نهر (قوله: ولا يجامعها في غير نوبتها) أي ولو نهاراً ط الخ (کتاب النکاح باب القسم بین الزوجات ج:3 ص:207 ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: (يجب) وظاهر الآية أنه فرض، نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة، بل يستحب الخ
و فی الشامیۃ تحت (قوله: وفي الملبوس والمأكول) أي والسكنى، ولو عبر بالنفقة لشمل الكل. ثم إن هذا معطوف على قوله: فيه، وضميره للقسم المراد به البيتوتة فقط؛ بقرينة العطف، وقد علمت أن العدل في كلامه بمعنى عدم الجور لابمعنى التسوية؛ فإنها لاتلزم في النفقة مطلقاً. قال في البحر: قال في البدائع: يجب عليه التسوية بين الحرتين والأمتين في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة، وهكذا ذكر الولوالجي. والحق أنه على قول من اعتبر حال الرجل وحده في النفقة. وأما على القول المفتى به من اعتبار حالهما فلا؛ فإن إحداهما قد تكون غنيةً والأخرى فقيرةً، فلا يلزم التسوية بينهما مطلقاً في النفقة. اهـ. وبه ظهر أنه لا حاجة إلى ما ذكره المصنف في المنح من جعله ما في المتن مبنياً على اعتبار حاله (قوله: والصحبة) كان المناسب ذكره عقب قوله: في البيتوتة؛ لأن الصحبة أي المعاشرة والمؤانسة ثمرة البيتوتة. ففي الخانية: ومما يجب على الأزواج للنساء: العدل والتسوية بينهن فيما يملكه، والبيتوتة عندهما للصحبة، والمؤانسة لا فيما لا يملكه وهو الحب والجماع الخ (کتاب النکاح باب القسم بین الزوجات ج:3 ص:201 ط: سعید)۔