میں ایک انجینئر ہوں اور میری بیوی ڈاکٹر ہے۔ ہم دونوں ملازمت کرتے ہیں اور امریکہ میں رہتے ہیں۔ ہمارے والدین کراچی، پاکستان میں ایک ہی شہر میں قریب قریب رہتے ہیں۔ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ جب بھی ہم پاکستان جاتے ہیں تو میری بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ تر وقت اپنے والدین کے ساتھ گزارے۔ میں کہتا ہوں کہ ہم آدھا آدھا وقت دونوں گھروں میں گزاریں، جبکہ اس بار میں اسے زیادہ سہولت دیتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ وہ صرف دو دن میرے والدین کے ساتھ رہے اور پانچ دن اپنی والدہ کے گھر سکون سے گزارے۔ اس کے باوجود اس کا کہنا ہے کہ میں زیادتی کر رہا ہوں اور اسے مکمل آزادی نہیں دے رہا۔ براہِ کرم اس مسئلے کا حل بتائیں اور یہ بھی کہ کس کی غلطی ہے اور کس کا مطالبہ غیر مناسب ہے۔
سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق، سائل کا اپنی اہلیہ سے یہ مطالبہ کرنا کہ پاکستان آمد کے بعد وہ اپنے قیام کے کچھ دن سائل اور اس کے والدین کے ساتھ گزارے اور باقی دن اپنے والدین کے ساتھ گزار لے، شرعاً و عرفاً ایک معقول اور جائز مطالبہ ہے، خصوصاً جبکہ سائل اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا بھی ہے۔ مزید یہ کہ سائل نے اپنی اہلیہ کی خواہش اور سہولت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے والدین کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی گنجائش بھی دی ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں سائل کے اس مطالبہ کو زیادتی، ناانصافی یا غیر مناسب مطالبہ قرار دینا درست نہیں۔
کما فی التنزیل العزیز: {وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: 19]
وفیہ أیضاً: {فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ} [النساء: 34]
وفی الأشباه والنظائر لابن نجيم: المعروف عرفاً كالمشروط شرطاً(ص: 93)