شوهر و بیوی کے حقوق

شوہر کی بے اکرامی کرنے والی عورت کیلئے حکم

فتوی نمبر :
97258
| تاریخ :
2026-07-08
معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / شوهر و بیوی کے حقوق

شوہر کی بے اکرامی کرنے والی عورت کیلئے حکم

جناب! آج سے تقريبا 29 سال قبل مىرى شادى ہوئى ،میرے 3 بىٹے اور 3 بيٹياں ہىں، جناب! مىرے 2 بيٹے اور 1 بيٹى شادى شده ہىں اور 2 بيٹياں اور 1 بيٹا كنوارے ہىں اور ہم تمام فىملى ممبرز اىك ساتھ ہى رہتے ہىں ، لىكن جناب! چند سال قبل سے مىرى زوجہ نے مىرے ازدواجى حقوق وفرائض ادا كرنے پر صاف انكار كرديا اور پچھلے كافى سالوں سے ہم صرف اىك دوسرے كے ساتھ رہ رہے ہىں ، لىكن مىرى زوجہ مىرے ساتھ شوہر كے حقوق والے تعلق بنانے كو راضى نہىں ہے، لىكن جناب ! وه اپنے تمام فرائض جس مىں مىرى پورى تنخواه اس كے ہاتھ مىں ركھنا سرِ فہرست ہے، جس كى وجہ سے وه مىرے ساتھ نازيبہ زبان بھى استعمال كرنے سے دريغ نہىں كرتى، اور بد اخلاقى كى ساری حدىں پار كر دىتى ہے اور مجھے ىہ تك كہتى ہے كہ اگر پورى تنخواه مجھے نہىں دو گے تو ىہاں سے چلے جاؤ، جبكہ مىرے بيٹے برسرِ روزگار ہىں اور مىں گھر كا واحد كفيل بھى نہىں ہوں، لہذا مىں آپكى خدمت مىں حاضر ہوا ہوں، تاكہ اس سلسلے مىں مجھے فتوى جارى كيا جائے، كہ مىں اپنى زوجہ كى ان نافرمانىوں كے باوجود اپنى تنخواه اسے دىنے كا پابند ہوں؟ مىں آپكا شكر گزار رہوں گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شوہر پر اپنی پوری تنخواہ بیوی کے حوالے کرنا شرعاً لازم نہیں؛ البتہ اپنی مالی استطاعت کے مطابق بیوی کا واجب نان نفقہ، یعنی رہائش، خوراک، لباس اور دیگر ضروری اخراجات فراہم کرنا شرعاً لازم ہے۔ نیز جب تک بیوی شوہر کے گھر میں مقیم ہو، محض ازدواجی تعلق سے انکار کرنے کی وجہ سے اس کا نان نفقہ شوہر کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل اپنی پوری تنخواہ بیوی کو دینے کے بجائے اپنی مالی استطاعت کے مطابق بیوی کا واجب نفقہ ادا کرنے کا پابند ہے۔البتہ بیوی کا بلاعذرِ شرعی شوہر کے حقوقِ زوجیت سے انکار کرنا، نیز اس کے ساتھ بدزبانی اور بدخلقی سے پیش آنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس طرزِ عمل کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو رہی ہے؛ اس پر لازم ہے کہ اپنے اس مذموم رویے کو ترک کرتےہوئے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ شوہر کے ساتھ اس قسم کے ناروا سلوک سے مکمل اجتناب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في بدائع الصنائع: وعليها أن تطيعه في نفسها، وتحفظ غيبته؛ ولأن الله عز وجل أمر بتأديبهن بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن، ونهى عن طاعتهن بقوله عز وجل {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] ، فدل أن التأديب كان لترك الطاعة، فيدل على لزوم طاعتهن الأزواج.اهـ (كتاب النكاح، فصل وجوب طاعة الزوج على الزوجة، ج: 2، ص: 334)
وفيه أيضا: وأما شرط وجوب هذه النفقة فلوجوبها شرطان: أحدهما يعم النوعين جميعا أعني: نفقة النكاح ونفقة العدة. والثاني يخص أحدهما وهو نفقة العدة أما الأول فتسليم المرأة نفسها إلى الزوج وقت وجوب التسليم ونعني بالتسليم: التخلية وهي أن تخلي بين نفسها وبين زوجها برفع المانع من وطئها أو الاستمتاع بها حقيقة. إلخ (ج: 4، ص: 18)
وفيه أيضا: والنشوز في النكاح أن تمنع نفسها من الزوج بغير حق خارجة من منزله بأن خرجت بغير إذنه وغابت أو سافرت.اهـ (كتاب النفقة، فصل في شرط وجوب هذه النفقة، ج: 4، ص: 22، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه (إلى قوله) وإذا تركت النشوز فلها النفقة.إلخ (الفصل الأول في نفقة الزوجة، ج: 1، ص: 545، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار: (لا) نفقة لأحد عشر (إلى قوله) (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره خلافا للشافعي، والقول لها في عدم النشوز بيمينها، وتسقط به المفروضة لا المستدانة في الأصح كالموت، قيد بالخروج؛ لأنها لو مانعته من الوطء لم تكن ناشزة.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله والقول لها إلخ) أي حيث لا بينة له، وهذا أخذه في البحر مما في الخلاصة: لو قال هي ناشزة فلا نفقة لها، فإن شهدوا أنه أوفاها المعجل وهي لم تكن في بيته سقطت النفقة، وإن شهدوا أنها ليست في طاعته للجماع لم تقبل لاحتمال كونها في بيته ولا تسقط؛ لأن الزوج يغلب عليها. اهـ. قلت: ويؤخذ منه أيضا تقييد كون القول لها بما إذا كانت في بيته (إلى قوله) (قوله لو مانعته من الوطء إلخ) قيده في السراج بمنزل الزوج وبقدرته على وطئها كرها. وقال بعضهم: لا نفقة لها؛ لأنها ناشزة. اهـ والثاني وجيه في حق من يستحي، وهذا يشير إلى أن هذا المنع في منزلها نشوز بالاتفاق سائحاني.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 575-577، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: فأما النشوز في النكاح فهو أن تمنع نفسها من الزوج بغير حق خارجة من منزله، بأن خرجت بغير إذنه وغابت أو سافرت، فأما إذا كانت في منزله ومنعت نفسها فلها النفقة؛ لأنها محبوسة لحقه منتفع بها ظاهرا وغالبا، فكان معنى التسليم حاصلا.اهـ (حرف النون، نشوز، ما يكون به نشوز الزوجة، ج: 40، ص: 287، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)
وفي الفقه على المذاهب الأربعة: والناشزة، هي التي تخرج من بيت زوجها بدون إذنه بغير حق، أو تمتنع من تسليم نفسها إليه، فلا تدخل داره، أما إذا لم تطاوعه في الجماع، فإن هذا، وإن كان حراما عليها، ولكن لا تسقط به نفقتها، لأن الحبس الذي تستحق به النفقة موجود.اهـ (مباحث النفقات، ج: 4، ص: 496، ط: : دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
وفيه أيضا: وبهذا تعلم أن مدار شروط النفقة على حبس المرأة بمنزل زوجها بالفعل أو بالقوة، فلا يشترطون لوجوب النفقة الدخول، كما لا يشترطون مطالبة الزوج بالدخول. إنما الشرط أن لا تمتنع عن تسليم نفسها عند طلبه ما دامت قبضت جميع مقدم صداقها، وأيضا لا يشترطون تمكينه من الوطء عند طلبه ما دامت محبوسة في داره، فلا تخرج إلا بإذنه، ولا يشترطون أن لا يكون لها مانع يمنع الوطء كرتق ونحوه، كما إذا كانت عجوزا غير صالحة للوطء، ومثلها المجنونة إذا سلمت له نفسها ومنعته من الوطء، وكذا لا يشترطون كون الزوج بالغا.اهـ (مباحث النفقات، ج: 4، ص: 497، ط: : دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
وفي الدر المختار: (امتنعت المرأة) من الطحن والخبز (إن كانت ممن لا تخدم) أو كان بها علة (فعليه أن يأتيها بطعام مهيإ وإلا) بأن كانت ممن تخدم نفسها وتقدر على ذلك (لا) يجب عليه ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك (2) لوجوبه عليها ديانة ولو شريفة؛ لأنه عليه الصلاة والسلام قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي رضي الله عنه والداخل على فاطمة رضي الله عنها مع أنها سيدة نساء العالمين بحر.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 579، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: والذي ينبغي تحريره أن يكون له منعها عن كل عمل يؤدي إلى تنقيص حقه أو ضرره.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 603)
وفيها أيضا: وإن قالت: لا أطبخ، ولا أخبز قال في الكتاب: لا تجبر على الطبخ والخبز، وعلى الزوج أن يأتيها بطعام مهيإ أو يأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز.اهـ (ج: 1، ص: 548) (دليل على أن الطبخ ليس فرضية الزوجة)
وفي البدائع أيضا: حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة (إلى قوله) وغير المالك لا يكون له التصرف في ملكه من غير إذنه ورضاه إلا لضرورة.إلخ (كتاب الدعوى، فصل في بيان حكم الملك والحق الثابت في المحل، ج: 6، ص: 263-264، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر. إلخ
وفي رد المحتار: (قوله لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، (إلى قوله) (قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 612)
وفي الدر المختار أيضا: (و) تجب (على موسر) ولو صغيرا (يسار الفطرة) (إلى قوله) (النفقة لأصوله) ولو أب أمه ذخيرة (الفقراء) ولو قادرين على الكسب والقول لمنكر اليسار والبينة لمدعيه (بالسوية) بين الابن والبنت.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله الفقراء) قيد به؛ لأنه لا تجب نفقة الموسر إلا الزوجة.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 621-622-623، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97258کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے بعد بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی اپنے شوہر سے جیب خرچی مانگ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر بیوی کی دلجوئی کے لئے میک اپ کرواسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی شوہرکے مطالبے پر بالوں پر ہرارنگ کرسکتی ہے

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا شوہر اجازت دے تو بیوی روزانہ اپنے والدین کو ملنے جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 5
  • دیور کا بھابھی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • لڑکی کے جہیز کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • سسرال والوں کا بہو سے گھر کا سارا کام لینا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 2
  • بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نکاح نامے میں بطور حق مہر سونے کی مقدار لکھی جائے یا مالیت؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • میاں بیوی کے تنازع کا حل

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو دیے گئے زیورات کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • اگر ساس بہو کو ناجائز تنگ کرے تو بیٹے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے والدین کی خدمت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عرصہ سات سال سے بیوی کے ساتھ بات چیت نہ کرنے والے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نافرمان بیوی کے شوہر کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا پہلی بیوی شوہر کو دوسری بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے منع کر سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا بیوی پر شوہر کی ہر بات ماننا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی کے ہمبستری کے مطالبہ پر شوہر کا منع کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • ازدواجی حقوق اور نان و نفقہ ادا نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • گھریلو معاملات درست نہ ہونے پر بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • دو شادیاں کرنے کی صورت میں ہر ایک بیوی کے حقوق

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے والی بیوی کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات