کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ایک مسجد میں عوام الناس کے چندہ کے پیسوں سے ایک وقف سولر سسٹم لگا ہوا ہے اور اسی مسجد کی چند وقف کی دکانیں بھی ہیں ،جن کا کرایہ مسجد کے مصارف میں خرچ ہوتا ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مسجد کے اس سولر سسٹم سے ان دوکانوں کو عوض کے بدلے بجلی دینا جائز ہے ، کہ اس سے جو عوض ملتا ہو وہ بھی مسجد کے مصارف میں خرچ کیا جاتا ہو ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
صورت مسؤلہ میں مذکور مسجد کا وقف شدہ سولر سسٹم اگر اتنی اضافی بجلی پیدا کرتا ہو کہ جو واقعۃً مسجد کی ضرورت سے زائد ہواور فی الحال اس کی مسجد کوکوئی ضرورت نہ ہو،تو یہ اضافی بجلی مناسب قیمت کے بدلے مسجد انتظامیہ کی اجازت سے مسجد کی دکانوں یا اس کے علاؤہ دوسرے لوگوں کو فروخت کرنا درست ہے ،لیکن اس سے حاصل ہونے والی ساری رقم مسجد کے مصارف اور ضروریات میں استعمال کرنا ضروی ہوگی ۔
کما فی الفتاوی الھندیة: الفاضل من وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد، كذا في المحيط اھ(كتاب الوقف،الفصل الثاني في الوقف،ج: 2،ص: 463،مط: دارالفکر)
و فی الدرالمختار: غرس في المسجد أشجارا تثمر إن غرس للسبيل فلكل مسلم الأكل وإلا فتباع لمصالح المسجد اھ(كتاب الوقف،ج: 4،ص: 432،مط: دارالفکر)
و فی المحیط البرھانی: الفاضل من وقف المسجد، وهل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وإنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد اھ(كتاب الوقف،الفصل الحادي والعشرون: في المساجد،ج: 6،ص: 215،مط: دارالکتب العلمیة)
و فی دررالحکام: وفي البرهان ينقل الحصر والحشيش إلى مسجد آخر على الصحيح من مذهب أبي يوسف أو يبيعها القيم لأجل المسجد اهـ.(كتاب الوقف،ج: 2،ص: 135،مط: دارالفکر)