السلا م علیکم جناب عالی!
میراسوال یہ ہےکہ 19/06/2014کو میری شادی ہوئی تھی، کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے نوبت طلاق تک آگئی ہے، میرا حق مہر دو تولہ ، چار ماشہ سونا تھا، ایک تولہ دو ماشہ سونا میں نے اسی وقت ادا کردیا تھا، جس وقت نکاح ہورہا تھا ، اس وقت ایک تولہ سونا 65000کا بنایا تھا، اب چونکہ سونا فی تولہ(22Gr) 436000کی ایک بڑی رقم ہے، جس کی گنجائش نہیں ہے، جبکہ لڑکی والے ایک تولہ سونا 22قیراط ہی مانگ رہے ہیں ، میں سال کے حساب سے قیمت دینے کو تیار ہوں ، علماء حق سے حل غور طلب ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر نکاح کے وقت بیوی کا حقِ مہر "دو تولہ، چار ماشہ سونا" مقرر کیا گیا تھا، تو شریعت کی رو سے سائل پر اسی مقدار میں سونا (دو تولہ چار ماشہ سونا) بعینہٖ ادا کرنا لازم ہے، لہٰذا لڑکی والوں کاطلاق کی صورت میں بقیہ مہر ایک تولہ دو ماشہ 22 قیراط سونےکی صورت میں دینے کامطالبہ کرناشرعاًدرست ہے، چنانچہ سائل کے لیے بیوی کی رضامندی کے بغیر نکاح کےوقت کے نرخ کے اعتبار سےبقیہ مہرکی ادائیگی کافی نہ ہوگی۔ البتہ اگرباہمی مصالحت کے طورپربیوی حق مہرکی مقدارمیں کمی کرنے یاگزشتہ سال کےنرخ کے مطابق وصولی پرآمادہ ہوجائے توشرعاًاس کی بھی گنجائش ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية : حتى لو تزوجها على ثوب أو مكيل أو موزون وقيمته يوم العقد عشرة فصارت يوم القبض أقل ليس لها الرد وفي العكس لها ما نقص(1/ 302)
و فی حاشية ابن عابدين: مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها۔۔۔قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها۔۔ الخ.(3/ 789)