السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے متعلق قرآن وحدیث کی روشنی میں ،میں نے اپنی حیات میں اپنا تمام جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر تقسیم کردی ، ہدیہ کی شکل میں اور سب کو اپنا اپنا حصہ دیا اور میں نے اپنے لئے اور اپنی زوجہ کیلئے بھی چھٹا حصہ نکالا ،کیا میں اور میری زوجہ اپنا اپنا حصہ اولاد میں سے کسی کیلئے وصیت کے طور پر دے سکتے ہیں ،اپنی رضامندی سے؟ یعنی اپنی حیات میں اپنے حصے کا کسی بیٹے کو مالک بناسکتے ہے ،نیز میں شرعاً وصیت کتنا کرسکتا ہوں اس کی حد بھی بتائیں ؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں،اگر تقسیم کر لے تو بھی شرعاً درست ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا زندگی میں اپنا جائیداد أولاد کے درمیان تقسیم کرنا بھی درست ہے اور اب اگر سائل اور اسکی بیوی دیگر جائیداد کی طرح اپنی ملکیت میں موجودہ حصہ بھی کسی بیٹے کو بطور گفٹ (ہبہ)دینا چاہے تو بھی دے سکتا ہے شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے،لیکن اس حصہ کے بارے میں کسی بیٹے کے حق میں وصیت کرنے کی صورت میں وارث کے حق میں ہونے کی وجہ سے یہ وصیت شرعاً معتبر نہ ہوگی اور دیگر ورثاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر اس پر عمل درآمد بھی جائز نہ ہوگا ۔
کما فی تبیین الحقائق: اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا اھ(كتاب القضاء،باب مسائل شتى،ج: 4،ص: 196،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی الھدایة: قال: "ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه،اھ(كتاب الوصايا،باب في صفة الوصية،ج: 4،ص: 514،مط: دار احیاء التراث)
و فی درر الحکام: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير اھ(الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك،ج: 3،ص: 201،مط: دار الجیل)
و فی الفتاوی الھندیة: ويستحب أن يوصي الإنسان بدون الثلث سواء كانت الورثة أغنياء أو فقراء، كذا في الهداية والأفضل لمن له مال قليل أن لا يوصي إذا كانت له ورثة والأفضل لمن له مال كثير أن لا يتجاوز عن الثلث فيما لا معصية فيه، كذا في خزانة المفتين.اھ(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية،ج: 6،ص: 90،مط: دارالفکر)