السلام علیکم!
محترم مفتی صاحب! میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ ہمارے پاکستان میں مسلم سوسائٹی میں یہ تصوّر پایا جاتاہے کہ ’’صفر‘‘ کا مہینہ مشکلات کا مہینہ ہے اور اس میں نقصان کا خدشہ ہوتاہے اور یہ کہ اَسّی ہزار (۸۰۰۰۰) مشکلات اور آفتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں، میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا یہ درست ہے؟ اگر اس بارے میں کوئی حدیث ہو تو وہ بھی بتادیں۔
’’ماہِ صفر‘‘ کو مشکلات کا مہینہ قرار دینا اور اس میں مذکور مقدار میں آفتوں کے نزول کا تصور جہالت پر مبنی تصوّر ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس تصور کی نفی فرمائی گئی ہے، ذیل میں چند حدیثیں مع ترجمہ ملاحظہ ہوں:
ففي صحیح البخاري: حدثنا سعيد بن ميناء، قال: سمعت أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عدوى ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر، وفر من المجذوم كما تفر من الأسد» اھ (۲/۴۵۰)۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرامایا بیماری کا ایک دوسرے کو لگنا نہیں اور بدشگونی ہامہ، اور صفر یہ سب چیزیں بے حقیقت ہیں، البتہ تم جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔
وفي الصحیح للامام مسلم: عن ٲبي ھریرة ٲن رسول اللہ ۔ صلی اللہ علیه وسلم ۔ قال: لا عدوی، ولا ھامة، ولانوء، ولاصفر اھ (۲/۲۳۱)۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک سے دوسرے کو بیماری کا لگنا ہامہ، اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
وفيه ٲیضا: عن جابر بن عبداللہ یقول: سمعت النبي ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یقول: لا عدوی، ولا صفر، ولا غول اھ (۲/۲۳۱)۔
ترجمہ: حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک دوسرے کو بیماری کا لگنا، صفر اور غول کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0