عام طور پر بوڑھے لوگ حاملہ خواتین کو رات کے اوقات میں گھر سے باہر نکلنے سے روکتے ہیں اور خاص طور پر جمعرات کے تمام دن، کیا اس اعتقاد کے صحیح اور معتمد ہونے کا کوئی ثبوت ہے؟اگر ہے توبراہِ کرم قرآنِ کریم یا صحاح ستہ سے کوئی حدیث مع حوالہ مہیا کریں۔ شکریہ!
سوال میں مذکور طرزِ عمل محض توہم پرستی اور رسمِ بد کو شامل ہے جس سے مسلمانوں کو بہرحال احتراز لازم ہے، جبکہ حاملہ عورت بھی بوقتِ ضرورت کسی بھی دن اپنے محرم کی معیت میں اور شرعی پردہ ملحوظ رکھتے ہوئے باہر نکل سکتی ہے اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
ففي ٲحکام القرآن للتھانوي: وقوله تعالی: ﴿وقرن في بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولی﴾ ففیهٲمر النساء بالقرار في البیوت والنہي عن الخروج متبرجات بزینة علی وتیرة الجاهلية الأولی (ٳلی قوله) فعلم ٲن حکم الآية قرارہن في البیوتٳلا لمواضع الضرورۃ الدینية کالحج والعمرۃ بالنص، ٲو الدنیوية کعیادۃ قرابتها وزیارتهمٲو احتیاحٳلی النفقة وٲمثالها اھـ (۳/۳۱۸)۔
وفي الدر المختار للامة الحصکفي: (و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة؛ و) لها (زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك اھـ (۳/۱۴۶)۔
قال اللہ تعالیٰ:﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾۔ (سورۃ الحدید22) واللہ أعلم بالصواب!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0