مفتی صاحب !میری زوجہ کافی عرصے سے پڑوس میں درس سننے جاتی ہے اور گھر آکر مجھ کو درس کی باتیں بتاتی ہے۔میں نے اس سے کوئی اختلاف والی بات نہیں دیکھی، مگر ابھی رمضان شریف میں جس قرآن پاک کی تفسیر پڑھا رہی ہے، وہ "مودودی" کا لکھا ہوا ہے اور چند کتب بھی دی ہیں جو کہ مودودی کی لکھی ہوئی ہیں ،اب میں اپنی زوجہ کو وہاں جانے سے روکنا چاہتاہوں، کیونکہ ہمارا دیوبند مسلک ہے، آپ مفتی صاحبان کی کیا رائے ہے؟جبکہ ہمارے محلہ میں خاتون کی دیوبندی درس کی کوئی بیٹھک (مجلس) نہیں ہے،میری زوجہ مودودی کے بارے میں مختصر جاننا چاہتی ہے، براہ کرم تفصیل سے جواب ارسال کریں۔
مودودی صاحب ایک آزاد خیال اور عقائد و احکام میں ذاتی رائے اور اجتہاد کی پیروی کرنے والے شخص تھے، خواہ ان کا اجتہاد جمہور علماءِسلف کے مطابق ہی ہو، حالانکہ اجتہاد کی شرائط ان میں موجود نہیں تھیں ۔ اس بنیادی غلطی کی بناء پر ان کے اکثر لٹریچر میں بہت سی باتیں غلط اور جمہور علماء اھلِ سنت کے خلاف ہیں جن سے اعتزال کی طرف میلان ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید اور بغض کا اظہار ،امت کے اجماعی عقائد سے انحراف ، قرآن کریم کی تحریف معنوی کا برملا اظہار واضح ہوتا ہے ۔خصوصاً ان کی کتاب"خلافت و ملوکیت" میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جس طرح تنقید ہی نہیں، بلکہ ملامت کا ہدف بنایا گیا ہے، وہ جمہور علماء اھلِ سنت والجماعت کے طرز کے بالکل خلاف ہے جس کی وجہ سے امتِ مسلمہ میں افتراق و انتشار اور اسلامی احکام میں شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔ نیز جماعتِ اسلامی عمومی طرز پر مودودی صاحب کے افکار ونظریات کو اپنا دستور و منشور قرار دیتی ہے اور ان ہی کےافکار ونظر یات کی ترویج میں شب و روز مصروف رہتے ہیں۔
لہٰذا سائل کی بیوی کو چاہیے کہ وہ جس جگہ درس سننے جاتی ہے، اگر وہاں مودودی صاحب ہی کے افکا ر ونظریات اور لٹریچر پر مبنی درس دیا جا تا ہو تو وہاں جانے سے احتراز کرے اور اگر قریب میں متبادل درس کی مجلس نہ ہو تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ کی تفسیر "معارف القرآن " کا مطالعہ کرے ۔جبکہ مودودی صاحب کے متعلق مزید معلومات کیلیے مولانا محمد یوسف لدھیا نو ی شہید رحمہ اللہ کی کتاب "اختلاف امت اور صراط مستقیم "کا مطالعہ مفید ہو گا۔ واللہ اعلم بالصواب!
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0