کیا فرماتے ہیں حضرات علماءِکرام اس جگہ کے بارے میں جو کہ رہائش کے قابل ہو اور آباد ہو، مگر مشہور ہو کہ یہ جگہ نحوست زدہ ہے اوریہ کہ جو شخص یہاں رہے گا، وہ پریشان رہے گا،خوشحالی اس کے نزدیک نہیں آئے گی، غرض کہ جتنی پریشانیاں انسان سوچ سکتاہے، وہ اس جگہ پر موجود ہیں ، حضرت وہ جگہ میں خریدنا چاہتاہوں، کیونکہ اس جگہ کے برابر میں میری جگہ ہے، صرف ایک دیوار بیچ میں حائل ہے ، براہِ مہربانی مفصل جواب لکھ کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ فی نفسہ کوئی جگہ یا مکان نحوست زدہ نہیں ہوتا، بلکہ نحوست یا پریشانیاں گھر کے تنگ ہونے یا پڑوسیوں کے بد اخلاق ہونے یا خود رہائش اختیار کرنے والوں کی بداعمالی کی بناء پر من جانب اللہ پیدا ہوتی ہیں ،اس لۓ اگر مذکور جگہ رہائش کے قابل ہو اور پڑوسی بھی بااخلاق ہوں اور خود سائل کو ظاہری اعتبار سے اس جگہ رہنے سے پریشانی کا اندیشہ نہ ہو تو لوگوں کی باتوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ توجہ دیئے بغیر اِسے خرید کر فرض نمازوں کی پابندی کے ساتھ اس میں نوافل، تلاوت اور صدقات کا اہتمام کریں تو ان شاءاللہ کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا ۔
فی المشکوة المصابيح: عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الشؤم فی المرأة و الدار و الفرس متفق علیه اھ(267)۔
وفی المر قاة المفاتیح: ( والدار : بضیقھا و سوء جیرانھا(إلی قوله) الخطابی ھذہ الأشیاء الثلاثة لیس لھا بأنفسھا و طباعھا فعل تأثیر و إنما ذلك کله بمشيئة اللہ و قضائه و خصت بالذکر لأنھا اعم الأشیاء التی یعتنیھا الناس اھ(6/269)۔
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0